حقیقةُ الوحی — Page 343
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۴۳ حقيقة الـ میں میری نسبت یہ شہرت دی کہ یہ شخص رمل اور نجوم سے پیشگوئیاں بتلاتا ہے اور اُس کے (۳۳۰) پاس آلات نجوم کے موجود ہیں۔ میں نے اس کی نسبت لعنة اللہ علی الکاذبین کہا اور خدا تعالیٰ کا عذاب اُس کے لئے چاہا جیسا کہ رسالہ فتح اسلام کے لکھنے کے وقت اس کی زندگی میں ہی میں نے یہ شائع کیا تھا اور یہ لکھا تھا تعالوا ندع ابناء نا وابناء كم و نسائنا و نسائكم و انفسنا و انفسكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله على الكاذبين۔ چنانچہ قریباً ایک برس اس مباہلہ پر گذرا ہوگا کہ وہ یک دفعہ کسی نا گہانی بیماری میں مبتلا ہوکر فوت ہو گیا اور اُس نے اپنی کتاب میں جو میرے مقابل پر اور میرے رڈ میں شائع کی تھی یہ لکھا تھا کہ جاء الحق وزهق الباطل۔ پس خدا نے لوگوں پر ظاہر کر دیا کہ حق کون سا ہے جو قائم رہا اور باطل کون سا تھا جو بھاگ گیا۔ قریباً سولا برس ہو گئے کہ وہ اس مباہلہ کے بعد فوت ہوا۔ جلو ۱۴۵ نشان ۔ مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنے رسالہ فتح رحمانی میں جو ۱۳۱۵ھ کو میری مخالفت میں مطبع احمدی لدھیانہ میں چھاپ کر شائع کیا گیا مباہلہ کے رنگ میں میرے پر ایک بددعا کی تھی جیسا کہ کتاب مذکور کے صفحہ ۲۶ و ۲۷ میں ان کی یہ بد دعا تھی : اللهم ياذا الجلال والاکرام یا مالک الملک جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع بحارالانوار کی دعا اور سعی سے اُس مہدی کا ذب اور جعلی مسیح کا بیڑا غارت کیا (جو اُن کے زمانہ میں پیدا ہوا تھا ) ویسا ہی دعا اور التجا اس فقیر قصوری کان اللہ لہ سے ہے جو بچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے کہ تو مرزا قادیانی اور اُس کے حواریوں کو تو بہ نصوح کی توفیق رفیق فرما اور اگر یہ مقدر نہیں تو اُن کو مورد اِس آیت فرقانی کا بنا۔ فقطع دابر القوم الذين ظلموا والحمدلله مولوی اسمعیل نے اپنے ایک رسالہ میں میری موت کے لئے بددعا کی تھی پھر بعد اس بددعا کے جلد مر گیا اور اس کی بد دعا اسی پر پڑ گئی ۔ منہ مزید تشریح کے لئے دوبارہ لکھا گیا ہے۔ منہ