حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 345

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۴۵ حقيقة الوح ہو گیا تھا میری بددعا سے یہ شخص ہلاک ہو گیا تو اس دعا کا الٹا اثر کیوں ہوا۔ یہ تو سچ ہے کہ محمد طاہر کی بد دعا سے جھوٹا مہدی اور جھوٹا مسیح ہلاک ہو گیا تھا اور اُسی محمد طاہر کی ریس سے غلام دستگیر نے میرے پر بددعا کی تھی تو اب یہ سوچنا چاہیے کہ محمد طاہر کی بددعا کا کیا اثر ہوا اور غلام دستگیر کی دعا کا کیا اثر ہوا اور اگر کہو کہ غلام دستگیر اتفاقا مر گیا تو پھر یہ بھی کہو کہ وہ جھوٹا مہدی بھی اتفاقاً مر گیا تھا محمد طاہر کی کوئی کرامت نہ تھی۔ لعنة الله على الكاذبين۔ اس وقت قریباً گیارہ سال غلام دستگیر کے مرنے پر گذر گئے ہیں جو ظالم تھا خدا نے اُس کو ہلاک کیا اور اُس کا گھر ویران کر دیا اب انصافا کہو کہ کس کی جڑھ کاٹی گئی اور کس پر یہ دعا پڑی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَابِرَ عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السَّوْء لا یعنی اے نبی تیرے پر ۳۳۲) یہ بد نہاد دشمن طرح طرح کی گردشیں چاہتے ہیں۔ انہیں پر گردشیں پڑیں گی۔ پس اس آیت کریمہ کی رو سے یہ سنت اللہ ہے کہ جو شخص صادق پر کوئی بد دعا کرتا ہے وہی بددعا اُس پر پڑتی ہے یہ سنت اللہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے ظاہر ہے۔ پس اب بتلاؤ کہ غلام دستگیر اس بد دعا کے بعد مر گیا ہے یا نہیں۔ لہذا بتلاؤ کہ اس میں کیا بھید ہے کہ محمد طاہر کی بد دعا سے تو ایک جھوٹا مسیح مر گیا اور میرے پر بد دعا کرنے والا خود مر گیا۔ خدا نے میری عمر تو بڑھادی کہ گیارہ سال سے میں اب تک زندہ ہوں اور غلام دستگیر کو ایک مہینہ کی بھی مہلت نہ دی۔ ۱۴۶۔ نشان۔ نواب محمد حیات خان جو ڈویژنل جج تھا کسی فوجداری الزام میں معطل ہو گیا تھا اور کوئی صورت اُس کی رہائی کی نظر نہیں آتی تھی تب اُس نے مجھ سے دعا کی درخواست کی اور میں نے دعا کی تب میرے پر خدا نے ظاہر کیا کہ وہ بری ہو جائے گا اور یہ خبر اس کو اور بہت سے لوگوں کو قبل از وقت سنادی گئی جیسا کہ براہین احمدیہ میں مفصل درج ہے آخر وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بری ہو گیا۔ ۱۴۷۔ نشان۔ ایک دفعہ مارچ ۱۹۰۵ء کے مہینے میں بوقت قلت آمدنی لنگر خانہ کے مصارف میں بہت دقت ہوئی کیونکہ کثرت سے مہمانوں کی آمد تھی اور اس کے مقابل پر روپیہ کی آمدنی کم۔ التوبة: ٩٨