حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 298

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۹۸ حقيقة الوحى مطبوعہ اپریل ۱۸۹۳ء۔ اس کے بعد ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء میں لیکھرام بذریعہ قتل ہلاک ہوگیا اور ۲۸۵ اُس کی موت سے تخمیناً پانچ برس پہلے یکشف رسالہ برکات الدعا میں چھاپ کر شائع کیا گیا تھا۔ اور یادر ہے کہ لکھر ام کے مارے جانے کی پیشگوئی صرف پیشگوئی نہیں تھی بلکہ میں نے اُس کے ہلاک ہونے کے لئے دعا کی تھی اور مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا تھا کہ وہ چھ برس کے اندر ہلاک کیا جائے گا۔ اگر وہ حد سے زیادہ زبان درازی نہ کرتا اور علانیہ طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دیتا تو چھ برس پورے کر کے مرتا مگر اس کی زبان درازیوں نے وہ مدت بھی پوری ہونے نہ دی اور ایک برس ابھی باقی تھا کہ وہ پنجہ اجل میں گرفتار ہو گیا۔ اس کے برخلاف ڈپٹی عبد اللہ آتھم نے نرمی کا طریق اختیار کیا یہاں تک کہ جب میں اس مباحثہ کے لئے ڈاکٹر مارٹن کلارک کی کوٹھی پر جاتا تھا تو مجھے دیکھ کر وہ تعظیم کے لئے کھڑا ہو جاتا تھا اور کمپین طبع عیسائی اُس کو منع کرتے تھے مگر وہ اس تعظیم سے باز نہیں آتا تھا اور نہ صرف اس قدر بلکہ اس نے دجال کہنے سے جلسہ عام میں رجوع بھی کیا اور عیسائیوں کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھا اس لئے خدا نے میعاد مقررہ سے زیادہ اس کو مہلت دے دی لیکھرام وہ تھا جو اپنی شوخیوں کی وجہ سے اصلی میعاد بھی پوری نہ کر سکا اور عبد اللہ آتھم وہ تھا جو اپنے ادب اور نرمی کی وجہ سے علاوہ اصل میعاد کے پندرہ مہینہ تک اور زندہ رہا اور بہر حال پندرہ مہینہ کے اندر مر گیا خدا نے اس کو مہلت بھی دے دی اور پھر اپنی بات کو بھی نہ چھوڑا یعنی بہر حال اس کی موت کے لئے پندرہ مہینے قائم رہے۔ اور میں نے سید احمد خان کو مخاطب کر کے اپنی کتاب برکات الدعا میں لکھا تھا کر لیکھرام کی موت کے لئے میں نے دعا کی ہے اور وہ دعا قبول ہوگئی ہے سو آپ کے لئے جو قبولیت دعا کے منکر ہیں یہ نمونہ دعائے مستجاب کافی ہے مگر میری اس تحریر پر ہنسی کی گئی کیونکہ لیکھر ام ابھی زندہ اور ہر طرح سے تندرست اور تو ہین اسلام میں سخت سرگرم تھا اور میں نے اس مراد سے کہ لوگ پیشگوئی کو یاد کر لیں اشعار میں سید احمد خان کو مخاطب کیا