حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 297

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۹۷ حقيقة الوح کے پہلے صفحہ میں ہی شائع کیا گیا تھا چا ہو تو دیکھ لو ۔ اور یہ امر کہ کن پیشگوئیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ قتل کیا جائے گا۔ پس واضح ہو کہ وہ تین ہیں۔ اول ایک پیشگوئی کہ جو رسالہ برکات الدعا میں لیکھرام کی زندگی میں ہی شائع کی گئی تھی وہ اُس کے قتل کی صاف طور پر خبر دیتی ہے اور وہ یہ ہے عجل جسد لۂ خوار۔ له نصب و عذاب۔ یعنی لیکھر ام گوساله سامری ہے جو بے جان ہے اور اس میں محض ایک آواز ہے جس میں روحانیت نہیں اس لئے اُس کو وہ عذاب دیا جائے گا جو گوسالہ سامری کو دیا گیا تھا اور ہر ایک شخص جانتا ہے کہ گوسالہ سامری کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور پھر جلایا گیا اور پھر دریا میں ڈالا گیا تھا۔ پس اس پیشگوئی میں صریح اور صاف طور پر لیکھرام کے قتل کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اُس کے لئے وہ عذاب مقرر کیا گیا ہے جو گوسالہ سامری کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ دوسری پیشگوئی جو لیکھرام کے قتل کی خبر دیتی ہے وہ ایک کشف ہے جو رسالہ برکات الدعا کے حاشیہ پر درج ہے اور اس کی عبارت یہ ہے کہ ۲ را پریل ۱۸۹۳ء کو میں نے دیکھا کہ ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اُس کے چہرہ پر سے خون ٹپکتا ہے گویا وہ انسان نہیں ملائک شداد و غلاظ میں سے ہے وہ میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا اور اُس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اُس کو دیکھتا تھا کہ ایک خونی شخص کے رنگ میں ہے اُس نے مجھ سے پوچھا کر لیکھرام کہاں ہے اور ایک اور شخص کا نام لیا اور کہا کہ وہ کہاں ہے تب میں نے سمجھ لیا کہ یہ شخص لیکھرام اور اُس دوسرے کی سزا کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ دیکھوٹائٹل پیج برکات الدعا ا حاشیہ اب تک مجھے معلوم نہیں کہ وہ اور شخص کون ہے اس فرشتہ خونی نے اس کا نام تو لیا مگر مجھے یاد نہ رہا۔ کاش اگر مجھے یاد ہوتا تو اسے میں متنبہ کرتا تا اگر ہو سکتا تو میں اسے وعظ ونصیحت سے تو بہ کی طرف مائل کرتا لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص بھی لیکھرام کا روپ یا یوں کہو کہ اس کا بروز ہے اور تو ہین اور گالیاں دینے میں اس کا مثیل ہے۔ واللہ اعلم منه