حقیقةُ الوحی — Page 299
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۹۹ حقيقة الوحى اور وہ اشعار یہ ہیں جو میری کتاب برکات الدعا میں درج ہیں اور اُس وقت شائع کئے گئے (۲۸۶) جب لیکھر ام زندہ موجود تھا ۔ سید احمد خان صاحب سی ایس آئی کی طرف نظم میں ایک خط جو دعا کی قبولیت کا منکر تھا روئے دلبر از طلبگاران نمیدارد حجاب می درخشد در خور و می تابد اندر ماہتاب لیکن آن روئے حسین از غافلان ماند نهان عاشقی باید که بردارند از بهرش نقاب دامن پاکش زنخوت ہا نمی آید بدست بیچ راہے نیست غیر از بحجز و درد و اضطراب بس خطرناک است راه کوچه یار قدیم جان سلامت بایدت از خود روی با سر بتاب تا کلامش عقل و فهم نا سزایاں کم رسد هر که از خود گم شود او یابد آن راه صواب مشکل قرآن نه از ابنائے دنیا حل شود ذوق آن میداند آن مستے که نوشد آن شراب ایکہ آگاہی ندادندت از انوار درون در حق ما ہر چہ گوئی نیستی جائے عتاب از سروعظ ونصیحت این سخنها گفته ایم تا مگر زین مرہمے به گردد آن زخم خراب از دعا کن چاره آزار انکار دعا چون علاج کے زمے وقت خمار و التهاب ایکه گوئی گرد عا بارا اثر بودے کجاست سوئے من جتاب بنمایم ترا چون آفتاب ہاں مکن انکار زین اسرار قدرتہائے حق قصہ کو نہ کن ببین از ما دعائے مستجاب یعنی دُعائے موت لیکھرام یہ کل نقل مطابق اصل ہے اور اس میں یہ تشریح درج ہے کہ یہ دعالیکھرام کی موت کے لئے کی گئی تھی۔ اور کتاب کرامات الصادقین میں ایک شعر لکھا گیا ہے کہ لیکھرام کی موت عید کے دن کے قریب ہوگی چنا نچہ عید جمعہ کو ہوئی اور کھر ام شنبہ کے دن مارا گیا اور وہ شعر یہ ہے۔ وَبَشِّرَنِي رَبِّي وَقَالَ مُبَشِّرًا سَتَعْرِفْ يَوْمَ الْعِيدِ وَالْعِيْدُ أَقْرَب دیکھو صفحہ ۴٬۳۲ سر ورق برکات الدعا۔ منہ