حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 275

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۷۵ حقيقة الوح سے محروم ہیں اُن پر شاہ کا لفظ اطلاق نہیں پاسکتا۔ اور پھر اس پر اور قرینہ یہ ہے کہ اس (۲۶۳ الہام کے ساتھ یہ دوسرا فقرہ ہے کہ لا تهنوا ولا تحزنوا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایسی موتیں ہوں گی جو ہمارے غم اور حزن کا موجب ہوں گی اور ظاہر ہے کہ دشمن کی موت سے کوئی غم نہیں ہو سکتا اور جب صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف شہید اسی جگہ قادیان میں تھے اُس وقت بھی اُن کے بارہ میں یہ الہام ہوا تھا قتل خيبة وزيد هيبة يعنى مخالفوں سے نومید ہونے کی حالت میں قتل کیا جائے گا اور اُس کا مارا جانا بہت ہیبت ناک ہوگا۔ ۱۱۴۔ نشان ۔ طاعون کے پھیلنے کے بارہ میں مجھے الہام ہوا۔ الامراض تشاع والنفوس تضاع۔ یعنی مرضیں پھیلائی جائیں گی اور جانوں کا نقصان ہوگا۔ اب جو شخص چاہے دیکھ لے کہ میں نے اس الہام کو طاعون کے پھیلنے سے پہلے اخبار الحکم اور البدر میں شائع کر دیا تھا پھر بعد اس کے پنجاب میں اس قدر طاعون کا زور ہوا کہ ہزارہا گھر موت سے ویران ہو گئے ۔ ۱۱۵۔ نشان۔ رسالہ سراج منیر میں طاعون کے آنے کی نسبت یہ ایک پیشگوئی ہے يا مسيح الخلق عدوانا یعنی اے وہ مسیح جو مخلوق کے لئے بھیجا گیا ہماری طاعون کی خبر لے۔ پھر بعد اس کے سخت طاعون پڑھی اور ہزار ہا بندگان خدا طاعون سے ڈر کر میری طرف دوڑے گویا اُن کی زبان پر یہی فقرہ تھا کہ یا مسیح الخلق عدوانا اور یہ پیشگوئی جس طرح میری کتاب سراج منیر میں درج ہے اسی طرح صد با آدمیوں کو قبل از وقوع اس سے اطلاع دی گئی تھی۔ ۱۱۶۔ نشان ۔ ایک دفعہ صبح کے وقت وحی الہی سے میری زبان پر جاری ہوا ۔ عبداللہ خان ڈیرہ اسمعیل خان اور تفہیم ہوئی کہ اس نام کا ایک شخص آج کچھ روپیہ بھیجے گا میں نے چند ہندوؤں کے پاس جو سلسلہ وحی کے جاری رہنے کے منکر ہیں اور سب کچھ وید پر ختم کر بیٹھے ہیں اس الہام الہی کو ذکر کیا اور میں نے بیان کیا کہ اگر آج یہ روپیہ نہ آیا تو میں