حقیقةُ الوحی — Page 274
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۷۴ حقيقة الوح ۲۶۲ پیش و پس کی خبر نہ تھی فریق مخالف نے ایک فیصلہ اُس کے رو برو پیش کیا جس میں موروثی آسامیوں کو بلا اجازت مالک کے اپنے اپنے کھیتوں سے درخت کاٹنے کا اختیار دیا گیا تھا تحصیل دار نے اس فیصلہ کو دیکھ کر مقدمہ خارج کر دیا اور اُن کو رخصت کر دیا۔ جب میں آیا تو تحصیل دار نے وہ فیصلہ مجھے دیا کہ شامل مثل کرو جب میں نے اُس کو پڑھا تو میں نے تحصیل دار کو کہا کہ یہ تو آپ نے بڑی بھاری غلطی کی کیونکہ جس فیصلہ کی بنا پر آپ نے یہ حکم لکھا ہے وہ تو اپیل کے محکمہ سے منسوخ ہو چکا ہے مدعا یھم نے شرارت سے آپ کو دھوکہ دیا ہے اور میں نے اُسی وقت محکمہ اپیل کا فیصلہ جو مثل سے شامل تھا اُن کو دکھلا دیا۔ تب تحصیل دار نے بلا توقف اپنا پہلا فیصلہ چاک کر دیا اور ڈگری کر دی۔ یہ ایک پیشگوئی ہے کہ ایک ہندوؤں کی جماعت اور کئی مسلمان اس کے گواہ ہیں اور وہی شرمیت اس کا گواہ ہے جو بہت خوشی سے یہ خبر لے کر میرے پاس آیا تھا کہ مقدمہ خارج ہو گیا فالحمد للہ علی ذالک، خدا کے کام عجیب قدرتوں سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس پیشگوئی کی تمام وقعت اس سے پیدا ہوئی کہ ہماری طرف سے کوئی حاضر نہ ہوا اور تحصیل دار نے غلط فیصلہ فریق ثانی کو سنا دیا۔ دراصل یہ سب کچھ خدا نے کیا اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ خاص عظمت اور وقعت پیشگوئی میں ہرگز پیدا نہ ہوتی۔ ۱۱۳۔ نشان ۔ براہین احمدیہ کی یہ پیشگوئی ہے کہ شــاتـان تذبحان۔ وكُلّ من عليها فان ۔ یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر مرے گا۔ یہ پیشگوئی براہین احمدیہ میں درج ہے جو آج سے پچیس برس پہلے شائع ہو چکی ہے۔ مجھے مدت تک اس کے معنے معلوم نہ ہوئے بلکہ اور اور جگہ کو محض اجتہاد سے اس کا مصداق ٹھیرایا لیکن جب مولوی صاحبزادہ عبد اللطیف مرحوم اور شیخ عبد الرحمن اُن کے تلمیذ سعید امیر کا بل کے ناحق ظلم سے قتل کئے گئے تب روز روشن کی طرح کھل گیا کہ اس پیشگوئی کے مصداق یہی دونوں بزرگ ہیں کیونکہ شاہ کا لفظ نبیوں کی کتابوں میں صرف صالح انسان پر بولا گیا ہے اور ہماری تمام جماعت میں ابھی تک بجز ان دونوں بزرگوں کے کوئی شہید نہیں ہوا اور جو لوگ ہماری جماعت سے باہر اور دین اور دیانت