حقیقةُ الوحی — Page 276
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۷۶ حقيقة الوح حق پر نہیں۔ ان میں سے ایک ہند و بشن داس نام قوم کا برہمن جو آج کل ایک جگہ کا پٹواری ہے بول اُٹھا کہ میں اس بات کا امتحان کروں گا اور میں ڈاک خانہ میں جاؤں گا۔ اُن دنوں میں قادیان میں ڈاک دو پہر کے بعد دو بجے آتی تھی وہ اُسی وقت ڈاکخانہ میں گیا اور نہایت حیرت زدہ ہو کر جواب لایا کہ در حقیقت عبداللہ خان نام ایک شخص نے جو ڈیرہ اسمعیل خان میں اکسٹرا اسٹنٹ ہے کچھ روپیہ بھیجا ہے اور وہ ہندو نہایت متعجب اور حیران ہو کر بار بار مجھے سے پوچھتا تھا کہ یہ امر آپ کو کس نے بتایا اور اُس کے چہرہ سے حیرانی اور مبہوت ہونے کے آثار ظاہر تھے۔ تب میں نے اُس کو کہا کہ اُس نے بتایا جو پوشیدہ بھید جانتا ہے وہی خدا ہے جس کی ہم پرستش کرتے ہیں چونکہ ہندو لوگ اُس زندہ خدا سے محض نا واقف ہیں جو ہمیشہ اپنی قدرت اور اسلام پر سچائی کے نمونے ظاہر کرتا رہتا ہے اس لئے عام طور پر ہندوؤں کی یہ عادت ہے کہ اوّل تو خدا تعالیٰ کے عجائب نشانوں سے انکار کرتے ہیں اور جب کوئی ایسا شخص اُن کو مل جائے کہ غیب کی پوشیدہ باتیں اُس کے ہاتھ سے ظاہر ہوں تب حیرت اور تعجب کے دریا میں ڈوب جاتے ہیں۔ اسی طرح لالہ شرمیت کا حال ہوا تھا جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں اُس کا بھائی بسمبر داس اور ایک اور شخص خوشحال نام کسی جرم میں قید ہو گئے تھے اور شرمپت نے امتحان کے رو سے نہ کسی اعتقاد سے مجھ سے دریافت کیا تھا کہ اس مقدمہ کا انجام کیا ہوگا اور دعا کی بھی درخواست کی تھی تب میں کئی دن اُس کے لئے دعا کرتا رہا آخر وہ خدا جو عالم الغیب ہے اُس نے رات کے وقت یہ پوشیدہ امر میرے پر کھول دیا کہ مقدمہ کا انجام یہ ہوگا کہ بسمبر داس کی نصف قید تخفیف کر دی جائے گی جیسا کہ میں نے اپنی کشفی حالت میں دیکھا تھا کہ آدھی قید اُس کی خود میں نے اپنی قلم سے کاٹ دی ہے مگر میرے پر ظاہر کیا گیا کہ خوشحال کو پوری قید بھگتنی پڑے گی ایک دن بھی کاٹا نہیں جائے گا اور بسمبر داس کی نصف قید رہ جانا صرف دعا کے اثر سے ہوگا مگر دونوں میں سے کوئی بھی بُری نہیں ہوگا اور ضرور ہے کہ مثل ضلع میں واپس آوے اور انجام وہ ہو جو بیان کیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب یہ سب باتیں پوری ہوگئیں تو شرمپت حیرت میں پڑا اور ہمارے خدا کی قدرتوں نے