حقیقةُ الوحی — Page 255
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۵۵ حقيقة الوح کسی اور عدالت میں مدعی فتح پا جائیں گے۔ یہ الہام اس قدر زور سے ہوا تھا کہ میں نے سمجھا کہ شاید قریب محلہ کے لوگوں تک آواز پہنچی ہوگی اور میں جناب الہی کے اس منشاء سے مطلع ہو کر گھر میں گیا اور میرے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم اُس وقت زندہ تھے میں نے رو برو تمام گھر کے لوگوں کے سب حال اُن کو کہہ دیا۔ اُنہوں نے جواب دیا کہ اب ہم مقدمہ میں بہت کچھ خرچ کر چکے ہیں اگر پہلے سے کہتے تو ہم مقدمہ نہ کرتے مگر یہ عذر اُن کا محض سرسری تھا اور اُن کو اپنی کامیابی اور فتح پر یقین تھا چنانچہ پہلی عدالت میں تو اُن کی فتح ہو گئی مگر چیف کورٹ میں مدعی کامیاب ہو گئے اور تمام عدالتوں کا خرچہ ہمارے ذمہ پڑا اور علاوہ اس کے وہ روپیہ جو پیروی مقدمہ کے لئے آپ قرضہ اُٹھایا تھا وہ بھی دینا پڑا اس طرح پر کئی ہزار روپیہ کا نقصان ہوا اور میرے بھائی کو اس سے بڑا صدمہ پہنچا کیونکہ میں نے اُن کو کئی مرتبہ کہا تھا کہ شرکاء نے اپنا حصہ میرزا اعظم بیگ لاہوری کے پاس بیچا ہے آپ کا حق شفعہ ہے روپیہ دے کر لے لو مگر انہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا اور وقت ہاتھ سے نکل گیا اس لئے اس بات پر پچھتاتے رہے کہ کیوں ہم نے الہام الہی پر عمل نہ کیا یہ واقعہ اس قدر مشہور ہے کہ پچاس آدمی کے قریب اس واقعہ کو جانتے ہیں کیونکہ یہ الہام بہت سے لوگوں کو سنایا گیا تھا جن میں سے بعض ہندو بھی ہیں ۔ ۹۴ - چورانواں نشان ۔ ایک دفعہ میں لدھیانہ کی طرف سے قادیان کی طرف ریل گاڑی (۲۴۴) میں چلا آتا تھا اور میرے ساتھ شیخ حامد علی میرا خدمت گار اور چند اور آدمی بھی تھے جب ہم کسی قدر مسافت طے کر چکے تو تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھے الہام ہوا نصف تر انصف عمالیق را اور ساتھ ہی دل میں ڈالا گیا کہ یہ وراثت کا حصہ ہے کہ کسی وارث کی موت سے ہمیں ملے گا اور نیز دل میں ڈالا گیا کہ عمالیق سے مراد میرے چچا زاد بھائی ہیں جو مخالفت بھی رکھتے تھے اور قد کے بھی لمبے تھے گویا خدا نے مجھ کو موسیٰ ٹھیرایا اور اُن کو مخالف موسیٰ۔ جب میں قادیان میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ ہمارے شرکاء میں سے ایک عورت امام بی بی نام مرض اسہال کبدی سے بیمار ہے چنانچہ وہ چند دن کے بعد مرگئی اور ہم دونوں گروہ کے سوا اُس کا کوئی