حقیقةُ الوحی — Page 256
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۵۶ حقيقة الوح وارث نہیں تھا اس لئے اُس کی زمین میں سے آدھی تو ہمارے حصہ میں آئی اور آدھی زمین ہمارے چازاد بھائیوں کے حصہ میں گئی اور اس طرح پر وہ پیشگوئی پوری ہوگئی جس کے پورے ہونے اور بیان کرنے پر ایک جماعت گواہ ہے اور نیز شیخ حامد علی بھی جو زندہ موجود ہے۔ ۹۵ ۔ پچانواں نشان ۔ ایک دفعہ مجھے لدھیانہ سے پٹیالہ جانے کا اتفاق ہوا اور میرے ساتھ وہی شیخ حامد علی اور دوسرا شخص فتح خان نام ساکن ایک گا نو متصل ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور کا اور تیر اشخص عبد الرحیم نام ساکن انبالہ چھاؤنی تھا اور بعض اور بھی تھے جو یاد نہیں رہے۔ جس صبح ہم نے ریل پر سوار ہونا تھا مجھے الہام کے ذریعہ سے بتایا گیا تھا کہ اس سفر میں کچھ نقصان ہوگا اور کچھ حرج بھی۔ میں نے اپنے ان تمام ہمراہیوں کو کہا کہ نماز پڑھ کر دعا کرلو کیونکہ مجھے یہ الہام ہوا ہے۔ چنانچہ سب نے دعا کی اور پھر ہم ریل پر سوار ہو کر ہر ایک طور کی عافیت سے پٹیالہ میں پہنچ گئے ۔ جب ہم اسٹیشن پر پہنچے تو وزیر اعظم ریاست کا خلیفہ محمد حسن مع اپنے تمام ارکان ریاست کے جو شاید اٹھارہ گاڑیوں پر سوار ہوں گے پیشوائی کے لئے موجود دیکھے اور جب آگے بڑھے تو شاید سات ہزار کے قریب دوسرے عام و خاص شہر کے رہنے والے ملاقات کے لئے موجود تھے اس حد تک تو خیر گذری نہ کوئی نقصان ہوا اور نہ کوئی حرج۔ (۲۲۵) لیکن جب واپس آنے کا ارادہ ہوا تو وہی وزیر صاحب مع اپنے بھائی سید محمد حسین صاحب کے جو شاید ان دنوں میں ممبر کونسل ہیں مجھے ریل پر سوار کرنے کے لئے اسٹیشن پر میرے ہمراہ گئے اور اُن کے ساتھ نواب علی محمد خان صاحب مرحوم مھجر والے بھی تھے جب ہم اسٹیشن پر پہنچے تو ریل کے چلنے میں کچھ دی تھی میں نے ارادہ کیا کہ عصر کی نماز یہیں پڑھ لوں اس لئے میں نے چوندا تار کر وضو کرنا چاہا اور چوغہ وزیر صاحب کے ایک ملازم کو پکڑا دیا اور پھر چونہ پہن کر نماز پڑھ لی اور اس چونہ میں زادِ راہ کے طور پر کچھ روپیہ تھے اور اسی میں ریل کا کرایہ بھی دینا تھا جب ٹکٹ لینے کا وقت آیا تو میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا کہ تا ٹکٹ کے لئے روپیہ دوں تو معلوم ہوا کہ وہ رو مال جس میں رو پید تھا گم ہو گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ چوغہ اُتارنے کے وقت کہیں گر پڑا مگر مجھے بجائے غم کے خوشی ہوئی کہ ایک