حقیقةُ الوحی — Page 254
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۵۴ حقيقة الوح طرف سے تحائف آئے کہ اگر وہ سب جمع کئے جاتے تو کئی کو ٹھے اُن سے بھر جاتے اور مخالف لوگوں نے میرے پر مقدمہ اُٹھائے اور مجھے ہلاک کرنا چاہا لیکن سب کے منہ کالے ہوئے اور ہر ایک مقدمہ میں انجام کار میری عزت اور اُن کی نا مرادی تھی اور مباہلہ کے بعد تین لڑکے بھی میرے پیدا ہوئے اور مجھے خدا نے عزت کے ساتھ اسی دنیا میں شہرت دی کہ ہزار ہا لوگ ذی عزت میری جماعت میں داخل ہوئے ۔ یقیناً یا درکھو کہ ہر ایک شخص جس کو اس بات پر اطلاع ہو گی کہ مباہلہ کے پہلے میری عزت کیا تھی اور کس قدر میری جماعت تھی اور کیا میری آمدنی تھی اور اولادمیری کس قدر تھی پھر بعد اس کے کیا ترقی ہوئی اُس کو گو کیسا ہی دشمن ہو مانا پڑے گا کہ مباہلہ کے بعد خدا نے برکت پر برکت دینے سے میری سچائی کی گواہی دی۔ اب عبد الحق سے پوچھنا چاہیے کہ اُس کو مباہلہ کے بعد کون سی برکت ملی ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ ایک کھلا کھلا معجزہ ہے اور قریب ہے کہ اندھا بھی اُس کو دیکھ لے مگر افسوس اُن لوگوں پر کہ جو رات کو دیکھتے ہیں اور دن کو اندھے ہو (۲۳۳) جاتے ہیں۔ مباہلہ کے دن سے آج تک مجھ پر فضل کی بارشیں ہورہی ہیں اور جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ دیکھ میں تیرے لئے آسمان سے برساؤں گا اور زمین سے نکالوں گا۔ سو اُس نے ایسا ہی میرے ساتھ معاملہ کیا اور وہ نعمتیں دیں اور وہ نشان دکھلائے جو میں شمار نہیں کر سکتا۔ اور وہ عزت دی کہ کئی لاکھ انسان میرے پانو پر گر رہے ہیں۔ ۹۳ - ترانواں نشان۔ اپنے امور وراثت کے متعلق ایک پیشگوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض غیر قابض جدی شرکاء نے جو قادیان کی ملکیت میں ہمارے شریک تھے دخل یابی کا دعوی عدالت گورداسپور میں کیا تب میں نے دعا کی کہ وہ اپنے مقدمہ میں ناکام رہیں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فرمایا اجیب كُلّ دُعائک الا فی شرکاء ک یعنی میں تیری ساری دعائیں قبول کروں گا مگر شرکاء کے بارہ میں نہیں تب مجھے معلوم ہوا کہ اسی عدالت میں یا انجام کار لا اردو میں بھی الہام ہوا تھا جو یہی فقرہ ہے اس الہام میں جس قدر خدا نے اپنے اس عاجز بندہ کو عزت دی ہے وہ ظاہر ہے۔ ایسا فقرہ مقام محبت میں استعمال ہوتا ہے اور خاص شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ہر ایک کے لئے استعمال نہیں ہوتا ہے۔ منہ