حقیقةُ الوحی — Page 253
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۵۳ حقيقة الوحى زندہ رہا اور پھر پیشگوئی کے مطابق پندرہ مہینے کے اندر مر گیا اور اس کی موت کی تاخیر بوجہ اُس کے رجوع کے تھی۔ اس بات کو دنیا جانتی ہے کہ انھم نے قریبا منتر آدمی کے رو برو دجال کہنے سے رجوع کیا۔ لہذا خدا نے چند ماہ تک اُس کی موت میں تا خیر ڈال دی اور پھر تھوڑے دنوں کے بعد اُس کو اس دنیا سے اُٹھا بھی لیا کیونکہ دوسری پیشگوئی میں یہ بھی تھا کہ گوتا خیر کی گئی مگر پھر بھی آتھم پندرہ مہینے کے اندر فوت ہو جائے گا۔ چنانچہ گیارہ سال گزر گئے کہ وہ مر گیا اور میں اب تک زندہ ہوں کیا آتھم نے قریبا ستر آدمیوں کے روبرو دجال کہنے سے رجوع نہیں کیا ؟ پھر کیا ضرور نہ تھا کہ اُس کو کسی قدر تا خیر دی جاتی ؟ میں اس خیال سے حیرت کے دریا میں ڈوب جاتا ہوں کہ اس صاف اور صریح پیشگوئی کا کیوں انکار کرتے ہیں۔ آخر کہنا پڑتا ہے کہ جن دلوں پر پردے ہیں وہ سیدھی بات کو بھی نہیں سمجھتے اور مسلمان کہلا کر پھر عیسائیوں کو مدددیتے ہیں اور وعید لعنت اللہ علی الکاذبین سے نہیں ڈرتے۔ کوئی انسان دروغ اور افترا سے فتح یاب نہیں ہوسکتا۔ دروغ گو کا انجام ذلت اور رسوائی ہے اور سچائی کی آخر فتح ہے۔ عبد الحق کے ساتھ مباہلہ کرنے کے بعد جس قدر تائید اور نصرت الہی کے مجھے الہام ہوئے اور جس طرح عظمت اور شوکت سے وہ پورے ہوئے وہ تمام حال میری اُن تمام کتابوں میں بھرا پڑا ہے جو مباہلہ کے بعد لکھی گئی ہیں جو چاہے دیکھ لے مجھے بار بار اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں میں صرف مختصر طور پر کہتا ہوں کہ بمجرد اس کے کہ میں مباہلہ کر کے اپنے مکان پر آیا اُسی وقت تائید اور نصرت الہی کے الہام شروع ہو گئے ہیں اور خدا نے متواتر بشارتیں مجھے دیں اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں دنیا میں تجھے ایک بڑی عزت دوں گا ۔ تجھے ایک بڑی جماعت بناؤں گا اور بڑے بڑے نشان تیرے لئے دکھلاؤں گا اور تمام برکات کا تیرے پر دروازہ کھولوں گا۔ چنانچہ ان پیشگوئیوں کے مطابق کئی لاکھ آدمی میری جماعت میں داخل ہوا جو اس راہ میں اپنی جان قربان کرتے ہیں اور اُس وقت سے آج تک دو لاکھ سے بھی زیادہ روپیہ آیا۔ اور اس قدر ہر ایک اگر کسی کو شک ہو تو مباہلہ کے بعد جو الہام میں نے شائع کئے ان کو میری کتابوں اور اخباروں میں دیکھ لے۔ منہ