حَمامة البشریٰ — Page 356
فتنہ ء عیسائیت کے دنیا میں بڑھنے اور پھیلنے کو اگران احادیث سے ملایا جائے کہ مسیحؑ نصاریٰ کے غلبہ کے وقت ظاہر ہو گا تو ہمیں نصاریٰ کے علماء کو ہی دجال تسلیم کرناپڑے گا ۲۰۱،۲۰۲،۲۰۳ح بعض احادیث میں ذکر ہے کہ دجال نوع انسان میں سے نہ ہوگا بلکہ شیطان کے گروہ میں سے ہو گا ۲۲۴ح بعض احادیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ مسیح موعود اور دجال بلاد شرقیہ سے یعنی ملک ہند میں ظاہر ہونگے ۲۲۵ عیسائیت کو دجال سمجھنے کی وجوہات ۲۲۷ ، ۲۲۹ اگر یاجوج ماجوج ، دجال اور عیسیٰؑ کا ظہور ظاہری رنگ میں قیامت سے پہلے تسلیم کریں تویہ خلاف قرآن ہے ۳۰۳،۳۰۴،۳۰۵ عیسیٰؑ کا دجال کو جنگ کے ذریعہ قتل کر نے کا عقیدہ درست نہیں کیونکہ صحیح بخاری میں رسول کریم کا قول یضع الحرب موجود ہے ۳۱۳ ، ۳۱۴ دجال کے بارہ میں ایک روایت کہ انماالدجال شیطان ۳۱۲ عیسٰیؑ کے قتل دجال سے مراد ۲۲۷،۳۱۳،۳۱۴،۳۱۵ دعا حضرت مسیح موعود ؑ کا اپنی صداقت کے بارہ میں سید عبد الرزاق کو نوافل اور دعا کے ذریعہ راہنمائی حاصل کرنے کی ہدایت ۱۳ اھدنا الصراط المستقیم۔۔۔ولاالضالین اس دعا میں ان خیالا ت کی تردید ہے کہ جو ہونا ہے وہ لکھا جا چکا اب دعا کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۱۲۲ ہدایت ایسی چیز ہے جو خدا کی طرف سے ملتی ہے اور اس کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔اس کا حصول اور اس پر ثابت قدمی خدا تعالیٰ سے دعا کے بغیر ممکن نہیں ۱۲۴ سورۃ الفاتحہ میں دعا کی برکتوں کی طرف اشارہ ہے ۱۲۵ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم میں نبیوں کے کمالات کے حصول کی دعا کی ترغیب ہے ۱۳۱ غیر المغضوب علیھم میں خدا تعالیٰ سے ادب کا طریق اختیار کرنے کی اشارہ ہے۔کیونکہ دعا کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں ۱۳۵ قرآن کریم اور انجیل کی دعا کا موازنہ ۱۴۳،۱۴۴ دنیا الفاتحہ کی پہلی آیت میں تخلیق کے آغاز اور آخری آیت میں قیامت کا ذکر ہے۔سات آیات اس طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ اس دنیا کی عمرسات ہزار سال ہے ۱۲۲،۱۲۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے وقت دنیا کی حالت زار تھی اہل زمین فسق اور فجور میں مبتلا تھے ۱۷۶ تا ۱۷۸ قرآن اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل جنت کی طرح اھل دوزخ بھی اس دنیا میں نہیں لوٹائے جائیں گے ۲۵۳، ۲۵۴ رفع/ نیز دیکھیں اسماء میں حضرت عیسیٰؑ علیہ السلام جن احادیث سے رسول کریم ﷺ کی حیات ثابت ہوسکتی ہے وہاں اس سے مرادحیات روحانی لی جاتی ہے ۲۲۰ ،۲۲۱ آیت قرآنی ورفعناہ مکانًا علیاً میں حضرت ادریس کے رفع سے مراد ۲۲۰ قرآن کریم کی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی بھی شخص جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر نہیں چڑھ سکتا ۲۱۹ رفع صرف حضرت عیسیٰ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام انبیاء کا رفع ہوا اور وہ خدا تعالیٰ کے پاس مسند نشین ہیں۔۲۲۲ رؤیا اور تعبیر الرؤیا ایک موقع پر رسول اکرمﷺ کا خواب میں اپنی تلوار ٹوٹتے دیکھنا اور اس سے مراد ۱۹۰ح رسول کریم کا رؤیا۔دجال مسیح کو دو اشخاص کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کعبہ کا طواف کرتے دیکھا ۱۹۱ ح