چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 352

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۴۸ چشمه مسیحی نفسانی جوشوں کا حال ہوا۔ کچھ شک نہیں کہ اگر یہ خود کشی مسیح سے بالا رادہ ظہور میں آئی تھی تو بہت بے جا کام کیا ۔ اگر وہی زندگی وعظ ونصیحت میں صرف کرتا تو مخلوق خدا کو فائدہ پہنچتا۔ اس بے جا حرکت سے دوسروں کو کیا فائدہ ہوا۔ ہاں اگر مسیح خود کشی کے بعد زندہ ہو کر یہودیوں کے روبرو آسمان پر چڑھ جاتا تو اس سے یہودی ایمان لے آتے مگر اب تو یہودیوں اور تمام عقلمندوں کے نزدیک مسیح کا آسمان پر چڑھنا محض ایک فسانہ اور گپ ہے۔ اور پھر تثلیث کا عقیدہ بھی ایک عجیب عقیدہ ہے۔ کیا کسی نے سنا ہے کہ مستقل طور پر اور کامل طور پر تین بھی ہوں اور ایک بھی ہو اور ایک بھی کامل خدا اور تین بھی کامل خدا ہو ۔ عیسائی مذہب بھی عجیب مذہب ہے کہ ہر ایک بات میں غلطی اور ہر ایک امر میں لغزش ہے اور پھر با وجودان تمام تاریکیوں کے آئندہ زمانہ کے لئے وحی اور الہام پر مہر لگ گئی ہے۔ اور اب ان ۱۵ تمام انا جیل کی غلطیوں کا فیصلہ حسب اعتقاد عیسائیوں کی وحی جدید کی رو سے تو غیر ممکن ہے کیونکہ اُن کے عقیدہ کے موافق اب وحی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔ اب تمام مدار صرف اپنی اپنی رائے پر ہے جو جہالت اور تاریکی سے مبرا نہیں۔ اور ان کی انجیلیں اس قدر بیہودگیوں کا مجموعہ ہیں جو ان کا شمار کرنا غیر ممکن ہے۔ مثلاً ایک عاجز انسان کو خدا بنانا اور دوسروں کے گناہوں کی سزا میں اس کے لئے صلیب تجویز کرنا اور تین دن تک اُس کو دوزخ میں بھیجنا اور پھر ایک طرف خدا بنانا اور ایک طرف کمزوری اور دروغگوئی کی عادت کو اُس کی طرف منسوب کرنا۔ چنانچہ انجیلوں میں بہت سے ایسے کلمات پائے جاتے ہیں جن سے نعوذ باللہ حضرت مسیح کا دروغگو ہونا ثابت ہوتا ہے مثلاً وہ ایک چور کو وعدہ دیتے ہیں کہ آج بہشت میں تو میرے ساتھ روزہ کھولے گا۔ اور ایک طرف وہ خلاف وعدہ اُسی دن دوزخ میں جاتے ہیں اور تین دن دوزخ میں ہی رہتے ہیں۔ ایسا ہی انجیلوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ شیطان آزمائش کے لئے مسیح کو کئی جگہ لئے پھرا۔ یہ عجیب بات ہے کہ مسیح خدا بن کر بھی شیطان کی آزمائش سے بچ نہ سکا اور شیطان کو خدا کی آزمائش کی جرات ہو گئی۔ یہ انجیل کا فلسفہ تمام دنیا سے نرالا ہے۔ اگر در حقیقت ۱۲ شیطان مسیح کے پاس آیا تھا تو مسیح کے لئے بڑا عمدہ موقع تھا کہ یہودیوں کو شیطان دکھلا دیتا