چشمۂ مسیحی — Page 353
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۴۹ چشمه مسیحی کیونکہ یہودی حضرت مسیح کی نبوت کے سخت انکاری تھے۔ وجہ یہ کہ ملا کی نبی کی کتاب میں کے مسیح کی یہ علامت لکھی تھی کہ اس سے پہلے الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ پس چونکہ الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہ آیا اس لئے یہودی اب تک حضرت عیسی کو مفتری اور مکار کہتے ہیں۔ یہ یہودیوں کی ایسی حجت ہے کہ عیسائیوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ۔ اور شیطان کا مسیح کے پاس آنا یہ بھی یہودیوں کے نزدیک مجنونانہ خیال ہے۔ اکثر مجانین ایسی ایسی خواہیں دیکھا کرتے ہیں۔ یہ مرض کابوس کی ایک قسم ہے۔ اس جگہ ایک محقق انگریز نے یہ تاویل کی ہے کہ شیطان کے آنے سے مراد یہ ہے کہ میسج کو تین مرتبہ شیطانی الہام ہوا تھا مگر مسیح شیطانی الہام سے متاثر نہیں ہوا۔ ایک شیطانی الہاموں میں سے یہ تھا کہ مسیح کے دل میں شیطان کی طرف سے یہ ڈالا گیا کہ وہ خدا کو چھوڑ دے اور محض شیطان کے تابع ہو جائے مگر تعجب کہ شیطان خدا کے بیٹے پر مسلط ہوا اور دنیا کی طرف اس کو رجوع دیا حالانکہ وہ خدا کا بیٹا کہلاتا ہے۔ اور پھر خدا ہونے کے برخلاف وہ مرتا ہے۔ کیا خدا بھی مرا کرتا ہے؟ اور اگر محض انسان مرا ہے تو پھر کیوں یہ دعویٰ ہے کہ ابن اللہ نے انسانوں کے لئے جان دی۔ اور پھر وہ ابن اللہ کہلا کر قیامت کے وقت سے بھی بے خبر ہے جیسا کہ مسیح کا اقرار انجیل میں (1) موجود ہے کہ وہ با وجود ابن اللہ ہونے کے نہیں جانتا کہ قیامت کب آوے گی۔ با وجود خدا کہلانے کے قیامت کے علم سے بے خبر ہونا کس قدر بیہودہ بات ہے بلکہ قیامت تو دُور ہے اس کو تو یہ بھی خبر نہ تھی کہ جس درخت انجیر کی طرف چلا اس پر کوئی پھل نہیں۔ اس زمانہ میں یہودی لوگ الیاس نبی کے دنیا میں دوبارہ آنے اور آسمان سے اترنے کے ایسے ہی منتظر تھے جیسے کہ آجکل ہمارے سادہ طبع مولوی حضرت عیسی کے آسمان سے اترنے کے منتظر ہیں۔ مگر حضرت عیسی کو ملا کی نبی کی اس پیشگوئی کی تاویل کرنی پڑی۔ اسی وجہ سے یہودی اب تک ان کو سچا نبی نہیں جانتے کہ الیاس آسمان سے نہیں اترا اس عقیدہ کی وجہ سے یہودی تو واصل جہنم ہوئے۔ اب اسی طمع خام میں مسلمان گرفتار ہیں۔ یہ سراسر یہودیوں کا رنگ ہے۔ خیر اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی پوری ہو گئی۔ منہ