چشمۂ مسیحی — Page 351
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۴۷ چشمه مسیحی یہ کہ فعل سے کچھ اور ظاہر ہو اور قول سے کچھ اور ظاہر ہو۔ خدا تعالیٰ کے فعل میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ نرمی اور درگزر نہیں بلکہ وہ مجرموں کو طرح طرح کے عذابوں سے سزایاب بھی کرتا ہے ایسے عذابوں کا پہلی کتابوں میں بھی ذکر ہے۔ ہمارا خدا صرف حلیم خدا نہیں بلکہ وہ حکیم بھی ہے اور اس کا قہر بھی عظیم ہے۔ سچی کتاب وہ کتاب ہے جو اس کے قانون قدرت کے مطابق ہے اور سچا قول الہی وہ ہے جو اس کے فعل کے مخالف نہیں ۔ ہم نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا کہ خدا نے اپنی مخلوق کے ساتھ ہمیشہ حلم اور درگزر کا معاملہ کیا ہو اور کوئی عذاب نہ آیا ہو۔ اب بھی (۱۳) نا پاک طبع لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ایک عظیم الشان اور ہیبت ناک زلزلہ کی خبر دے رکھی ہے جو ان کو ہلاک کرے گا اور طاعون بھی ابھی دور نہیں ہوئی ۔ پہلے اس سے نوح کی قوم کا کیا حال ہوا۔ لوط کی قوم کو کیا پیش آیا؟ سو یقیناً سمجھو کہ شریعت کا ما حصل تَخَلُّق باخلاق اللہ ہے یعنی خدائے عزّ و جلّ کے اخلاق اپنے اندر حاصل کرنا ۔ یہی کمال نفس ہے۔ اگر ہم یہ چاہیں کہ خدا سے بھی بڑھ کر کوئی نیک خلق ہم میں پیدا ہو تو یہ بے ایمانی اور پلید رنگ کی گستاخی ہے اور خدا کے اخلاق پر ایک اعتراض ہے۔ اور پھر ایک اور بات پر بھی غور کرو کہ خدا کا قدیم سے قانونِ قدرت ہے کہ وہ تو بہ اور استغفار سے گناہ معاف کرتا ہے اور نیک لوگوں کی شفاعت کے طور پر دعا بھی قبول کرتا ہے مگر یہ ہم نے خدا کے قانون قدرت میں کبھی نہیں دیکھا کہ زید اپنے سر پر پتھر مارے اور اس سے بکر کی دردِ سر جاتی رہے ۔ پھر ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کی خودکشی سے دوسروں کی اندرونی بیماری کا دور ہونا کس قانون پر مبنی ہے اور وہ کون سا فلسفہ ہے جس سے ہم معلوم کر سکیں کہ مسیح کا خون کسی دوسرے کی اندرونی ناپاکی کو دور کر سکتا ہے بلکہ مشاہدہ اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے کیونکہ جب تک مسیح نے خود کشی کا ارادہ (۱۴) نہیں کیا تھا تب تک عیسائیوں میں نیک چلنی اور خدا پرستی کا مادہ تھا مگر صلیب کے بعد تو جیسے ایک بند ٹوٹ کر ہر ایک طرف دریا کا پانی پھیل جاتا ہے۔ یہی عیسائیوں کے