چشمہٴ معرفت — Page 406
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۰۶ ۱۵۰۰ چشمه معرفت مقصود کے لئے طیار کیا جائے سو ایسا ہی ہوا اور ایک مدت دراز کے بعد خدا نے دلوں میں میری محبت اس قدر ڈال دی کہ علاوہ مالی مدد کے بعض نے میری راہ میں مرنا بھی قبول کیا اور وہ سنگسار کئے گئے مگر دم نہ مارا۔ اپنی جان میری لئے چھوڑ دی مگر مجھے نہ چھوڑا۔ اور بعض نے میرے لئے دکھ اُٹھائے اور صدہا کوس سے ہجرت کر کے قادیان میں آگئے ۔ اور بعض نے ہزار ہا روپے میرے آگے پیش کئے ۔ اور جس قدر لوگ بیعت کے لئے آج تک قادیان میں آئے وہ ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے۔ اور سب بیعت کرنے والے چار لاکھ کے قریب ہوں گے۔ اور جیسا کہ منی آرڈروں سے ثابت ہو سکتا ہے ایک لاکھ سے بھی زیادہ روپیہ آچکا ہے۔ اور اب فقط لنگر خانہ کے خرچ کے لئے قریباً پندرہ سو روپیہ ماہوار آتا ہے اور جیسا که خرچ بڑھتا جاتا ہے ایسا ہی آمدن بھی بڑھتی جاتی ہے۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ اس پیشگوئی کے الفاظ سب کے سب قرآن شریف کی عبارت ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ معجزه در اصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے اور اس پیشگوئی کے دو پہلو ہیں جو تنقیح طلب ہیں اول یہ کہ آیا یہ بھی ہے کہ اس زمانہ میں جس پر پچھپیش برس سے بھی زیادہ مدت گذر چکی ہے میں ایسا ہی گمنام اور کس پر سر میں داخل تھا جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے۔ اور دوسرا امر ی تنقیح طلب ہے کہ کیا یہ سچ ہے کہ کئی لاکھ آدمی نے اب تک بیعت کی ہے؟ اور اکثر اُن کے قادیان میں آئے ہیں اور کیا یہ سچ ہے کہ ایک لاکھ یا کچھ زیادہ اب تک روپیہ آچکا ہے؟ سو ۳۷ پہلا ام تنقیح طلب بہت صاف ہے کیونکہ اس ضلع اور امرتسر اور لاہور کے اضلاع میں کوئی شخص دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ اطلاع رکھتا ہے کہ اس ابتدائی زمانہ میں یہ عروج اور شہرت اور مالی فتوحات حاصل تھیں اور خوش نصیبی سے اس بات کے گواہ قادیان کے آریہ بھی ہیں جن میں سے ایک کا نام لالہ شرمیت اور دوسرے کا نام لالہ ملا وامل ہے کیونکہ وہ میرے پاس آتے جاتے تھے اور اُن کو میری تنہائی اور گمنامی کا حال خوب معلوم تھا اور جب امرتسر میں میری کتاب