چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 407

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۰۷ چشمه معرفت براہین احمدیہ چھپتی تھی تو اتفاقاً بعض دفعہ وہ میرے ساتھ امرتسر گئے تھے ایسا ہی قادیان کے تمام باشندے گواہ ہیں۔ اور دوسرا امر تنقیح طلب بھی ایسا ہی بدیہی اور صاف ہے جس سے گورنمنٹ بھی بے خبر نہیں اور وہ یہ کہ تمام پنجاب اور ہندوستان میں ہماری جماعتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور ریاست کا بل میں بھی ایک کثیر جماعت ہماری ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے فتوحات کے لئے سرکاری ڈاک خانے کافی گواہ ہیں اور یادر ہے کہ یہ پیشگوئی دراصل ستائیس برس کی ہے نہ پھیش برس کی ۔ اور پچیس برس صرف براہین احمدیہ کے چھپنے پر گذرے ہیں اور مدت تک یہ مسودہ التوا میں رہا ہے ۔ اُس شخص کو اس پیشگوئی کا مزہ آئے گا جو ان دونوں تنقیح طلب امور کی اوّل تحقیق کرے گا۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا اس قدر عظیم الشان غیب انسانی قدرت میں داخل ہے؟ اگر داخل ہے تو دنیا میں اس ۲۷ کی نظیر کہاں ہے؟ منجملہ اُن نشانوں کے جو خدا نے میرے ہاتھ پر ظاہر کئے وہ نشان بھی ہیں جو بعض قادیان کے آریہ صاحبوں نے مشاہدہ کر لئے ۔ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ کسی قدر وہ بھی بیان کروں کیونکہ جو نشان خود آریہ صاحبوں کی ذات کے متعلق ہیں اور وہ اُن کے گواہ چشم دید ہیں اُن سے زیادہ اس مجمع میں کون سانشان یقینی اور قطعی سمجھا جا سکتا ہے سو اُن میں سے ایک نشان لالہ شرمپت آریہ ساکن قادیان کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ لالہ صاحب (۳۸) موصوف کو ایک مرتبہ جس کو قریباً پینتیس برس کا عرصہ گذرا ہے یہ مصیبت پیش آئی کہ انکا بھائی لالہ بسمر داس ایک فوجداری مقدمہ میں قید ہو گیا اور ساتھ اس کے ایک اور شخص بھی قید ہوا جس کا نام خوشحال تھا۔ تب لالہ شرمیت نے ایک دفعہ مجھے آکر کہا کہ آپ دعا کریں ہم لوگ بہت بے قرار ہیں میں نے رات کو دعا کی تو مجھے دکھلایا گیا کہ میں اس دفتر میں پہنچا ہوں جہاں قیدیوں کی میعاد کے رجسٹر ہیں اور میں نے وہ رجسٹر کھولا جو لالہ بسمبر داس کی میعاد کا رجسٹر تھا اور میں نے اُس میں سے نصف قید کاٹ دی اور لالہ شرمیت کو یہ حال