چشمہٴ معرفت — Page 345
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۴۵ چشمه معرفت حق کے طالبوں کے لئے ایک ضروری نصیحت چونکہ دنیا ایک ایسی دھوکہ دینے والی جگہ ہے کہ اس میں ہر ایک اچھی چیز کے مقابل پر بُری چیز بھی موجود ہے بلکہ بعض اوقات نادانوں کی نظر میں بُری چیز ایسی اچھی دکھائی دیتی ہے کہ گویا وہی عمدہ اور قابل تعریف ہے مثلاً ہیرا جس کو خدا اپنی قدرت اور حکمت سے زمین میں سے پیدا کر دیتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ کوئلہ سے پیدا ہوتا ہے۔ بہر حال کچھ ہولیکن وہ ایسی قیمتی چیز ہے کہ اگر وہ اپنے پورے وزن اور پورے لوازم کے ساتھ پیدا ہو جائے تو کئی لاکھ روپیہ بلکہ اس سے بڑھ کر اُس کی قیمت ہوتی ہے اور بجز خزائن ملوک کے کسی کو میسر نہیں آتا پھر عجیب تر بات یہ ہے کہ بعض دوسرے پتھر بھی ایسے ہیں کہ بڑے دانا جو ہری بھی دھوکہ کھا کر اُن کو اعلی ۳۳۰ درجہ کا ہیرا ہی خیال کرنے لگتے ہیں بلکہ اپنی بیوقوفی سے خرید کر ہزار ہا روپیہ کا خسارہ اٹھاتے ہیں۔ میرے یہ دیکھنے کی بات ہے کہ قادیان میں ایک کا بلی شخص دو پتھر چپکنے والے مدور شکل کے لایا جو بہت خوبصورت اور چمکدار تھے اور بیان کیا کہ یہ دو ہیرے ہیں اور اُن میں سے شعلہ کی طرح چمک نکلتی تھی۔ میرے ایک دوست نے جو مدراس کے رہنے والے تھے ایک ٹکڑہ اس ۵۰۰ ہیرے کا خریدنا چاہا اور پانسو روپیہ قیمت ٹھہری۔ میں نے اُن کو منع کیا کہ اوّل یہ ٹکڑہ کسی جوہری کو دکھلا لینا چاہیے۔ پھر جو ہری کے پاس مدراس میں وہ ٹکڑہ بھیجا گیا آخر شاید ایک ہفتہ یا دس دن کے بعد جواب آیا کہ اس ٹکڑہ کی قیمت دو یا تین پیسے ہیں اور معلوم ہوا کہ یہ اور ہی پتھر ہے جو ہیرے سے مشابہ ہوتا ہے۔ پس اسی طرح سمجھنا چاہیے کہ بعض نا اہل آدمی اپنی جھوٹی چمک دکھلا کر ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ گویا وہ اولیاء الرحمن میں سے ہیں اور در حقیقت وہ اولیاء الشیطان میں سے ہوتے ہیں