چشمہٴ معرفت — Page 344
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۴۴ چشمه معرفت قسم کا قانون قدرت ہے جو ہمارے زمانہ میں آکر معطل ہو گیا۔ پھر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ خدا صرف آریہ ورت کا ہی خدا نہیں بلکہ تمام دنیا کا خدا ہے پھر یہ کس قسم کا قانون قدرت ہے کہ وہ بے شمار مدتوں سے آریہ ورت سے ہی تعلق رکھتا ہے کہ انہیں کے ملک میں اپنی کتاب نازل کرتا ہے کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ آریہ ورت کو خدا سے کون سی خصوصیت ہے کہ ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کو انہیں کا ملک پسند آ گیا۔ اور پھر کیا وجہ ہے کہ اس کام کے لئے ہمیشہ آریہ ورت کے چار رشی ہی منتخب کئے جاتے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ پر میشرا اپنے عاجز بندوں کو اُن کی زبان میں ہی اپنے احکام نہیں سمجھا تا اور ایک اجنبی زبان جس کو بندے نہ سمجھ سکیں نہ بول سکیں اُن کے سامنے پیش کرتا ہے کہ اُس کی ہدایتوں پر چلو ؟ اگر یہی بات ہے کہ پر میشر اُن کی زبان سے نفرت کرتا ہے تو پھر وہ دعائیں جو اپنی اپنی زبان میں لوگ کرتے ہیں وہ کیوں کرسن لیتا ہے؟ غرض آریہ مذہب خدا کے قانون قدرت کے بالکل مخالف ہے اور ہم بار بار بیان کر چکے ہیں کہ وید کی رو سے پر میشر کا وجود ہی ثابت نہیں ہوتا کیونکہ نہ پر میشر وید کی رو سے ۳۲۹ کامل طور پر خالق ہے اور نہ کوئی تازہ نشان دکھا سکتا ہے تا اُس کی ہستی کا اُس سے پتہ لگے اور نہ اُس کی طرف توجہ کرنے والا یہ امر محسوس کرتا ہے کہ پر میشر نے اپنی کلام سے اُس کو اپنے وجود کی خبر دی ہے کہ میں موجود ہوں ۔ عجیب بات یہ ہے کہ وید کی رو سے مجرموں کو سزا دینے کے لئے اور نیز ایسی نیک جزا دینے کے لئے جس سے ایک ہیل اپنی مشقت بھگت کر انسان بن سکتا ہے یہی دنیا جزا وسزا کا گھر ہے مگر پھر بھی ہر ایک روح مرنے کے بعد دنیا سے اٹھائی جاتی ہے اور کسی سزا جزا کا ثمرہ اسی دنیا میں دست بدست دکھایا نہیں جاتا اور چاہیے تھا کہ جس وقت ایک بیل اپنی بداعمالی کی سزا بھگت لے تو فی الفور اُس بیل کو انسان بنایا جائے تا لوگوں کو بھی معلوم ہو کہ تاریخ برحق ہے جب کہ یہی دنیا سزا جزا دینے کا گھر ہے تو ناحق روح کو دنیا سے اٹھا لینا اور پھر واپس لانا کس قدر فضول حرکت ہے۔