چشمہٴ معرفت — Page 346
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۴۶ چشمه معرفت ہر ایک شخص کا کام نہیں ہے کہ وہ عبادالرحمن اور عباد الشیطان میں فرق کر سکے ہاں اگر ولایت حقہ کے جمیع لوازم مد نظر رکھ کر اور اس معیار کو ہاتھ میں لے کر جو قرآن شریف نے عباد الرحمن کے لئے مقرر کیا ہے دیکھا جائے تو انسان دھو کہ کھانے سے بچ جائے گا اور کسی ابلیس کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دے گا مگر مشکل تو یہی ہے کہ اس زمانہ میں اکثر لوگ خدا کے پاک کلام قرآن شریف میں تدبر نہیں کرتے اور نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف نے عباد الرحمن کے کیا کیا علامات لکھے ہیں ۔ یہ علامات قرآن شریف میں دو قسم کے پائے جاتے ہیں ۔ بعض وہ علامات ہیں جو بندہ کے کمال تقویٰ اور کمال اخلاص اور حسن اعتقاد اور حسن افتد اء اور حسن عمل کے متعلق ہیں اور بعض وہ علامات ہیں جو خدا تعالیٰ کے فضل اور اکرام اور انعام کے متعلق ہیں یہ دونوں قسم کے علامات جس بندہ میں صحیح اور واقعی طور پر پائے جائیں گے وہ بلا شبہ عباد الرحمن میں سے ۳۳۱ ہوگا اور سب سے زیادہ جو خدا نے علامت رکھی ہے وہ یہ ہے جو مومن اور غیر مومن میں خدا نے ایک فرقان رکھا ہے اور مومن کامل مقابلہ کے وقت اپنے دشمن پر فتح پاتا ہے اور اُس کی نصرت اور مدد کی جاتی ہے اور نیز یہ کہ مومن کامل کو بصیرت کامل بخشی جاتی ہے اور سب سے زیادہ معرفت کا حصہ بخشا جاتا ہے اور نیز یہ کہ اس کا تقویٰ معمولی انسانوں کے تقویٰ کی طرح نہیں ہوتا بلکہ اُس کے تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ وہ خدا کے مقابل پر اپنے وجود کو بھی گناہ میں داخل سمجھتا ہے اور نیستی کے انتہائی درجہ پر پہنچ جاتا ہے اور اُس کا کچھ بھی نہیں رہتا بلکہ سب خدا کا ہو جاتا ہے اور اُس کی راہ میں فدا ہونے کو ہر وقت تیار رہتا ہے۔ اور چونکہ خدا کی غیرت عام طور پر اپنے بندوں کو انگشت نما نہیں کرنا چاہتی اس لئے جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے خدا اپنے خاص اور پیارے بندوں کو بیگا نہ آدمیوں کی نظر سے کسی نہ کسی ظاہری اعتراض کے نیچے لا کر مجوب اور مستور کر دیتا ہے تا اجنبی لوگوں کی