چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 343

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۴۳ چشمه معرفت بآسانی باہر کی طرف نکل آتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی ایک حیوانی شعور ہے۔ ایسا ہی لاجونتی کی بوٹی میں بھی حیوانی شعور پایا جاتا ہے کہ وہ ہاتھ لگانے سے فی الفور پژمُردہ ہو جاتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا وجود بھی حیوان اور نبات میں مشترک ہے اور بعض درختوں کے پھل جب پختہ ہوتے اور کھانے کے قابل ہو جاتے ہیں تو وہ سب کے سب پرندے بن جاتے ہیں اور دوسرے پرندوں کی طرح پرواز کرتے ہیں جیسا کہ گولر کا پھل بھی اسی طرح کا ہے اور بعض سیاح صاحب تجر بہ بیان کرتے ہیں کہ افریقہ کے بعض جنگلوں میں بہت سے ایسے درخت پائے گئے ہیں کہ اُن کے پھلے بھی گولر کی پھل کی طرح آخر کار چھوٹے چھوٹے پرندے ہو کر پرواز کرنے لگتے ہیں۔ بعض پتے اس قسم کے ہیں کہ عین سبز ہونے کی حالت میں اُن میں کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ کارخانہ قدرت الہی کی کون حد بست کر سکتا ہے یہ تمام جہالتیں ہیں کہ اس کے قدرت کے کاموں کو محدود کیا جاوے اس وسیع کا رخانہ قدرت پر ایک عمیق نظر ڈالنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ تمام مدار حیوانی پیدائش کا یہ قرار دینا کہ روحیں شبنم کی طرح آسمان سے گرتی ہیں ایسا خیال صرف جہالت ہی ﴿۳۸﴾ نہیں بلکہ جنون اور دیوانگی ہے۔ پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ ان تمام کیٹروں کی پیدائش موسموں اور وقتوں سے وابستہ ہے مثلاً برسات میں اس قدر کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں کہ تمام سال میں اس قدر پیدا نہیں ہوتے پس کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ برسات میں لوگ بڑے بڑے گناہ کرتے ہیں اس لئے اس موسم میں کیڑوں کی ادنی جو میں انہیں نصیب ہوتی ہیں ؟ شرم ۔ ماسوا اس کے آریہ مذہب کا یہ عقیدہ قانون قدرت سے کس قدر بر خلاف ہے کہ خدا تعالیٰ اس زمانہ میں لوگوں کی دعائیں سنتا تو ہے مگر بولنے پر قادر نہیں اس لئے جواب نہیں دے سکتا ۔ اور صرف اُس زمانہ تک وہ بولتا تھا جبکہ وید کا زمانہ تھا پھر جبکہ وہ بولتا نہیں تو کیوں کر معلوم ہو کہ وہ سنتا بھی ہے بلکہ کیوں کر معلوم ہو کہ وہ زندہ ہے پس یہ کس