چشمہٴ معرفت — Page 342
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۴۲ چشمه معرفت کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہیں بلکہ مختلف قسم کے مادوں سے خواہ وہ نباتی ہیں خواہ جمادی یا حیوانی باذن باری تعالیٰ روحیں پیدا ہو جاتی ہیں شبنم کا اُن میں کچھ دخل نہیں جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں۔ پس یہ کس قسم کا فلسفہ ہے کہ روحوں کی پیدائش کا صرف شبنم پر مدار رکھا گیا ہے یعنی یہ کہ روح شبنم کی طرح آسمان سے کسی گھاس پات پر گرتی ہے۔ اگر کارخانہ قدرت پر نظر ڈالی جائے تو جانداروں کی پیدائش کے بارے میں انسانی عقل ہر ایک قدم میں اپنے عجز کا اقرار کرتی ہے۔ ایک قسم کے وہ جاندار ہیں جو دریاؤں اور سمندروں میں عجیب طور پر پیدا ہوتے اور پرورش پاتے ہیں اور ایک قسم کے وہ جاندار ہیں جو زمین کے نیچے پیدا ہوتے ہیں۔ اور بعض جاندار یعنی کیڑے پھلوں میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہماری اس کتاب کے تحریر کے وقت جو آم کے پھل لانے کا وقت ہے اور موسم بہار ہے آم کے پھول میں ایک کیڑا پیدا ہو گیا ہے جس کو اس ملک میں تیلا کہتے ہیں اور یہ آم کے پھول سے ہی پیدا ہوا ہے اور یقین تھا کہ آم کی فصل کو تباہ کر دیتا مگر اب بارش کے ہونے سے کسی قدر کم ہو گیا ہے۔ ایسا ہی کپاس کے درختوں کو ایک قسم کے کیڑے نے نقصان پہنچایا ہے کہتے ہیں کہ کپاس کا ۳۲۷ کیڑا خارجی تاثیر سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ ایک انگریز محقق نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پودے کی جڑ میں مٹی میں سے پیدا ہوتا ہے۔ ایسا ہی اس موسم بہار میں میوہ بیدا نہ پر ہمیشہ ایک کیڑا دیکھا گیا ہے جو بہت خوبصورت اور بادامی رنگ ہوتا ہے۔ اور موتی کا کیڑا بھی ایک عجیب قسم کا ہوتا ہے اور بہت نرم ہوتا ہے اور لوگ اس کو کھاتے بھی ہیں۔ خود پانی میں بھی کیڑے ہوتے ہیں اور ایک قسم کے درخت ہیں کہ ایک صفت اُن میں نباتی اور ایک حیوانی ہے جیسا کہ پہلے حکماء نے بھی بانس کے درخت میں یہ صفت ثابت کی ہے کہ اگر وہ کسی ایسی جگہ پر لگایا جائے جس کے اوپر چھت ہو تو ہنوز وہ درخت چھت تک نہیں پہنچتا اور ایک دو ہاتھ باقی رہتے ہیں کہ ایسی طرف اپنا رخ کر لیتا ہے جس طرف سے وہ