چشمہٴ معرفت — Page 316
روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت یہ بات سچ ہے کہ بغیر امتیاز مذہب و مشرب اور نیک اور بد ہونے کے ہر ایک فرقہ کے لوگ خواہیں دیکھتے ہیں اور بعض خواہیں بچی بھی نکلتی ہیں بلکہ بعض فاسقوں اور فاجروں اور مشرکوں کی بھی خوا ہیں بچی نکلتی ہیں اور الہام بھی ہوتے ہیں مگر اس سے خدا کے مرسلوں اور نبیوں کا سلسلہ مشتبہ نہیں ہوسکتا بلکہ یہ عام لوگوں کی خوا ہمیں بھی انہیں کی گواہی کے لئے ہیں تا ایک دانشمند سمجھ لے کہ خدا کے الہام کی تخم ریزی ہر ایک فطرت میں اس لئے کی گئی ہے کہ تا ہر ایک فطرت خدا کے نبیوں کے لئے بطور گواہ کے ہو جائے اور اسرار نبوت کو غیر ممکن نہ سمجھ لیں اور ظاہر ہے کہ جیسا ایک درہم سے کوئی بادشاہ نہیں کہلا سکتا اور یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو کچھ بادشاہ کے خزانوں میں ہے وہ میرے پاس بھی ہے۔ ایسا ہی کسی خواب یا الہام کے سچا ہونے سے کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ میں ان رُوحانی بادشاہوں کے برابر ہوں جو نبی اور رسول ہیں اور اگر ایسا کرے تو وہ ہلاک کیا جائے گا کیونکہ اُس نے گستاخی کی ۔ خدا کے برگزیدوں کا ایک یہ بھی معجزہ ہوتا ہے کہ جو شخص گستاخی کر کے اُن کا مقابلہ کرے تو انجام کا ریا تو وہ شخص ہلاک ہو جاتا ہے یا سخت ذلیل کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ آسمانی سلطنت کے مقرب ہوتے ہیں اور خدا کی غیرت نہیں چاہتی کہ جو شخص اُن میں سے نہیں ہے وہ اُن کے ساتھ برابری کرے اور اُن کی کرسی پر بیٹھے اس لئے خدا ایسے گستاخوں کو سزا دے کر دنیا پر ظاہر کرتا ہے کہ اس کے برگزیدہ اُس کی جناب میں کس قدر عزت رکھتے ہیں۔ غرض وہ خدا کی طرف سے اُس کے دین کے لئے حجۃ اللہ ہوتے ہیں اور آسمانی نشان اُن کے ذریعہ سے ظاہر ہوتے ہیں یا بہ تبدیل الفاظ ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ روحانی علوم کے سکھلانے کے لئے ایسے استاد ہیں جو ذاتی ۳۰۲ مشاہدات اور تجربہ سے معارف دینیہ پر اطلاع رکھتے ہیں ۔ یہ کہنا سراسر غلطی ہے کہ دنیا کے فلاسفروں سے بڑھ کر کس استاد کی حاجت ہے کیونکہ دنیا کے فلاسفروں کی صرف اس حد تک رسائی ہے جو جو اس ظاہری یا باطنی کے حدود ہیں مگر ان حواس سے بالاتر ایک اور عالم ہے جو روحانی حواس سے معلوم ہوتا ہے جو خدا کے برگزیدوں کو کامل طور پر دیئے جاتے ہیں اور اس عالم کا انکشاف بجز ذریعہ اُن برگزیدوں کے غیر ممکن ہے جن کو یہ حواس