چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 315

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۱۵ چشمه معرفت ہے اور اس ضرب کے ساتھ ایک گونج پیدا ہوتی ہے اور پھر پھول کی طرح وہ شگفتہ ہو جاتا ہے اور اس سے پاک اور لذیذ کلام نکلتا ہے اور وہ کلام اکثر امور غیبیہ پرمشتمل ہوتا ہے اور اپنے اندر ایک شوکت اور طاقت اور تاثیر رکھتا ہے اور ایک آہنی شیخ کی طرح دل میں دھنس جاتا ہے اور خدا کی خوشبو اُس سے آتی ہے یہ تمام لوازم اس لئے اُس کے ساتھ لگائے گئے ہیں کہ بعض نا پاک طبع انسان شیطانی الہام بھی پاتے ہیں یا حدیث النفس کے فریب میں آجاتے ہیں اس لئے خدا نے اپنے کلام کے ساتھ چمکتے ہوئے انوار رکھے ہیں تا دونوں میں فرق ظاہر ہو۔ اور صرف اسی پر بس نہیں بلکہ خدا کے کلام کی یہ بھی نشانی ہے کہ وہ زبر دست معجزات پر مشتمل ہوتا ہے اور وہ معجزات کیا باعتبار کثرت اور کیا باعتبار کیفیت اپنے اندر ما بہ الامتیاز رکھتے ہیں یعنی کثرت مقدار اور صفائی کیفیت کی وجہ سے کوئی دوسرا اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور جس طرح (۳۰۱) خدا کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہو سکتا اُسی طرح خدا کے کلام کے ساتھ کوئی دوسرا کلام شریک نہیں اور جس پر وہ کلام نازل ہوتا ہے اُس کو ایک خاص نصرت اور حمایت الہی ملتی ہے اور اس میں اور اس کے غیر میں ایک فرق رکھا جاتا ہے جیسا کہ خدا میں اور اس کے غیر میں فرق ہے۔ حاشیہ: جس شخص پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے اور سچ مچ وہ مکالمہ الہیہ سے شرف پاتا ہے اس کو اس مکالمہ کے ساتھ اور لوازم نصرت اور مدد بھی عطا کئے جاتے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ کہ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا بلکہ وہ ہر ایک پر خود غالب ہوتا ہے۔ اور کو کتنی ہی دیر درمیان واقع ہو جائے مگر انجام کا ر فتح اسی کی ہوتی ہے اور اُس کے دشمن خائب و خاسر رہ جاتے ہیں وہ با وجود ہزاروں دشمنوں کے پھر بھی سب پر غالب ہو جاتا ہے اور دشمنوں کے سارے منصوبے اس کے مقابل پر کالعدم ہو جاتے ہیں اور اُن کی بددعا ئیں انہیں پر پڑ جاتی ہیں اور منجملہ ان لوازم خاصہ کے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے زمانہ میں اس کا ظہور سب مدعیوں سے پہلے ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے تب ابھی جھوٹے نبیوں کا نام ونشان نہ تھا۔ اور جب اُن کا نور زمین پر خوب روشن ہو گیا تب مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی اور ابن صیاد وغیرہ جھوٹے نبی ظاہر ہوئے تا خدا دکھاوے کہ کس طرح وہ بچے کی حمایت کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بچے نبی کے ظہور کے وقت بارش کے موسم کی طرح آسمان پر انتشار روحانیت ہوتا ہے اور اکثر لوگوں کو کچی خوا ہیں شروع ہو جاتی ہیں ۔ الہام بھی ہونے لگتے ہیں اسی دھو کہ سے بعض جھوٹے نبی اپنی حد سے بڑھ کر نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ منہ