چشمہٴ معرفت — Page 317
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۱۷ چشمه معرفت کامل طور پر عطا کئے جاتے ہیں اور جبکہ خدا نے ظاہری چیزوں کے معلوم کرنے کے لئے ظاہری حواس عطا فرمائے ہیں اور علوم معقولہ کے دریافت کرنے کے لئے جو امور باطنیہ ہیں حواس خمسہ باطنی عطا کئے ہیں پس اس صورت میں صاف طور پر سمجھ آ سکتا ہے کہ ایسے امور جو عقل سے بالا تر ہیں اُن کے دریافت کے لئے بھی خدا نے کوئی ذریعہ رکھا ہو گا سو وہ ذریعہ وحی اور کشف ہے اور جیسا کہ انسانی فطرت کے لئے یہ دائمی عطیہ ہے کہ بجز ان لوگوں کے جو بہرے اور اندھے یا دیوانے ہوں ہر ایک انسان کو حواس خمسہ ظاہری اور باطنی اب بھی حسب تفاوت مراتب عطا ہوتے ہیں یہ نہیں کہ صرف پہلے عطا ہوتے تھے اور اب نہیں ۔ ایسا ہی خدا کا قانون قدرت روحانی حواس کے لئے بھی اسی کے مطابق ہے کہ اب بھی وحی اور کشف کے حواس حسب مراتب ملتے ہیں اور جو اعلیٰ درجہ کی استعداد ر کھتے ہیں وہ ان روحانی حواس میں سب سے بڑھ جاتے ہیں اور جو کتاب انسانوں کو یہ تعلیم دے کہ وہ روحانی حواس اب نہیں ملتے بلکہ پہلے کسی زمانہ میں مل چکے وہ کتاب خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ نہ صرف قانون قدرت کے برخلاف بلکہ مشاہدہ اور تجربہ کے بھی بر خلاف ہے۔ اور روحانی معلموں کی یہی نشانی ہے کہ وہ صرف ان اخبار غیبیہ کو نہیں بتلاتے ہیں کہ جو دنیا کی ابتدا میں ظاہر ہو چکے ہیں اور نہ محض ان اخبار غیبیہ کی خبر دیتے ہیں جو اس عالم کے انقطاع کے بعد ظاہر ہوں گے بلکہ اُن اخبار غیبیہ سے بھی مطلع فرماتے ہیں جو وقتاً فوقتاً اس دُنیا میں ظاہر ہوتے ہیں کیونکہ جو امور غیبیہ ہماری نظر کے سامنے نہیں اور جن کو ہم آزما کر اُن کا صدق و کذب ظاہر نہیں کر سکتے وہ کسی بچے نبی اور (۳۰۳ رسول کی علامت نہیں ہو سکتے کیونکہ دنیا سے پہلے اور دنیا کے مابعد کی خبریں دینا ایک ایسی سہل اور آسان بات ہے جس کو ایک جھوٹا اور مفتری بھی بیان کر سکتا ہے کیونکہ ایسی خبریں آزمائش اور تجربہ کی حد سے باہر ہیں مثلاً فقط یہی غیب کی خبریں دینا کہ پہلے صرف مولی گاجر کی طرح بہت سے انسان زمین میں سے پیدا ہو گئے تھے اور نیز یہ خبر کہ پر میشر ہمیشہ آریہ ورت میں ہی اپنی کتاب نازل کرتا رہا ہے اور ویدک سنسکرت ہی خدا کا کلام ہے اور نیز یہ کہ مرنے