چشمہٴ معرفت — Page 304
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۰۴ چشمه معرفت مکذب ہوں۔ پس اے ایشور ہم دونوں میں سچا فیصلہ کر یعنی وہ جو جھوٹا ہے اُس کو جھوٹ کی سزا دے۔ پس خدائے عادل نے یہ فیصلہ کیا کہ اُس کو میری زندگی میں ہی بُری طرح ہلاک کر دیا مگر اس فیصلہ سے آریہ قوم نے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھایا حالانکہ جھوٹ اور بیچ کے پر لکھنے کے لئے یہی نشان کا فی تھا اگر آریہ مذہب سچا تھا تو یہ کیا بلا نازل ہوئی جو خدا نے جھوٹے کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ اس جگہ صرف پیشگوئی نہیں تھی بلکہ باہمی مباہلہ بھی تھا اور پانچ برس سے لوگوں کی آنکھیں اس طرف لگی ہوئی تھیں کہ کس کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے آخر ۶ مارچ ۱۸۹۷ء کے مبارک دن میں قریبا دن کے ۴ بجے کے وقت خدا نے یہ فیصلہ سنا دیا۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے لئے یہ خدا کی گواہی ہے۔ وہ دل لعنتی ہے جو خدا کی گواہی سے بھی تسلی نہیں پکڑتا۔ اب ہم مضمون پڑھنے والے کے تمام اعتراضات کا جواب دے چکے ہیں اور ثابت کر چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا ہاں ۲۹۱ وید پر ایسے اعتراضات وارد ہوتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ وید گمراہ کرنے والی کتاب ہے اور جن لوگوں نے بنام نہاد الہام کے ایسی کتاب آریہ ورت کو دی ہے وہ لوگ ہرگز منجانب اللہ نہیں ہو سکتے بعد اس کے ہم اور چند مقاصد لکھیں گے چنانچہ منجملہ اُن کے ایک مقصد مندرجہ ذیل ہے۔