چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 303

روحانی خزائن جلد ۲۳ ٣٠٣ چشمه معرفت تمام حصہ کو شرک سے پاک نہ کر دیا۔ وہ اپنی سچائی کی آپ دلیل ہے کیونکہ اُس کا نور ہر ایک زمانہ میں موجود ہے اور اس کی کچی پیروی انسان کو یوں پاک کرتی ہے کہ جیسا ایک صاف اور شفاف دریا کا پانی میلے کپڑے کو ۔ کون صدق دل سے ہمارے پاس آیا جس نے اُس نور کا مشاہدہ نہ کیا اور کس نے صحت نیت سے اس دروازہ کو کھٹکھٹایا جو اُس کے لئے کھولا نہ گیا لیکن افسوس ! کہ اکثر انسانوں کی یہی عادت ہے کہ وہ سفلی زندگی کو پسند کر لیتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ نور اُن کے اندر داخل ہو ۔ ایسا ہی اس سفلہ پن کی عادت نے بعض آریوں کو کھا لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائیوں میں مکر اور فریب سے کام لیا مگر وہ اپنے تعصب کی وجہ سے نہیں جانتے کہ جب دشمن لڑائی کے وقت میں مکر اور فریب استعمال میں لاتا ہے تو مکر کے ساتھ ہی اس کا جواب دینا کیوں حرام ہے۔ مکر اور فریب بجائے خود کوئی بُری چیز نہیں ہے بلکہ اس کی بد استعمالی کمر کی ہے جو امر صحت نیت سے سچائی کی مدد میں اور مظلوموں کی امداد کی غرض سے کیا جاتا ہے وہ گناہ میں داخل نہیں ہے ۔ خدا شریر مکار کومکر کے ذریعہ سے ہی ۲۹۰ سزا دیتا ہے اور خدا ہمیشہ راستباز آدمی کا حامی ہوتا ہے اور خبیث اور چنڈال آدمی کو آخر وہ پکڑتا ہے اسی طرح وہ اپنے پاک نبیوں کی مدد کرتا آیا ہے۔ چنانچہ آریوں کو بھی اُس نے اپنی اس مدد کے نمونے دکھائے ہیں اور ہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اُن کو دکھلا دیا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کا دشمن ہے منجملہ ان نشانوں کے لیکھرام کی موت بھی ایک بڑا نمونہ ہے۔ ی شخص محض ایک نادان تھا جس نے خواہ نخواہ خدا کے پاک نبی کو گالیاں دینا اپنا شیوہ اختیار کرلیا تھا میں نے بہت سمجھایا مگر وہ باز نہ آیا اور مجھ سے اُس نے نشان مانگا تب خدا نے اُس کے چھ سال کے اندر قتل کئے جانے کا اُس کو بطور پیشگوئی نشان دیا۔ اُس نے میرے ساتھ مباہلہ بھی کیا اور اپنی کتاب خبط احمدیہ میں دانت پیس پیس کر یہ دعا مانگی کہ ایک طرف یہ شخص ہے جو قرآن کو خدا کا کلام جانتا ہے اور ایک طرف میں ہوں جو وید کو سچا جانتا ہوں اور قرآن کا