چشمہٴ معرفت — Page 305
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۰۵ الہامی کتابوں کی غرض اصلی کے بیان میں اور یہ کہ سب سے اکمل قرآن شریف ہے یہ تو ظاہر ہے کہ ہر ایک چیز کی بڑی خوبی یہی کبھی جائے گی کہ جس غرض کے پورا کرنے کے لئے وہ وضع کی گئی ہے اُس غرض کو بوجہ احسن پوری کر سکے مثلاً اگر کسی بیل کو قلبہ رانی کے لئے خریدا گیا ہے تو اُس بیل کی یہی خوبی دیکھی جائے گی کہ وہ بیل قلبہ رانی کے کام کو بوجہ احسن ادا کر سکے اسی طرح ظاہر ہے کہ اصلی غرض آسمانی کتاب کی یہی ہونی چاہیے کہ اپنے پیروی کرنے والے کو اپنی تعلیم اور تاثیر اور قوت اصلاح اور اپنی روحانی خاصیت سے ہر ایک گناہ اور گندی زندگی سے چھڑا کر ایک پاک زندگی عطا فرمادے اور پھر پاک کرنے کے بعد خدا کی شناخت کے لئے ایک کامل بصیرت عطا کرے اور اُس ذات بے مثل کے ساتھ جو تمام خوشیوں کا سر چشمہ ہے محبت اور عشق کا تعلق بخشے کیونکہ در حقیقت یہی محبت نجات کی جڑھ ہے اور یہی وہ بہشت ہے جس میں داخل ہونے کے بعد تمام کوفت اور تلخی اور رنج و عذاب دور ہو جاتا ہے اور بلا شبہ زندہ اور کامل کتاب الہامی وہی ہے جو طالب خدا کو اس مقصود تک پہنچا دے اور اُس کو سفلی زندگی سے نجات دے کر اس محبوب حقیقی سے ملا دے جس کا وصال عین نجات ہے اور تمام شکوک و شبہات سے مخلصی بخش کر ایسی کامل معرفت اس کو عطا کرے کہ گویا وہ اپنے خدا کو دیکھ لے اور (۲۹۲) خدا کے ساتھ ایسے مستحکم تعلقات اُس کو بخش دے کہ وہ خدا کا وفادار بندہ بن جائے اور خدا اُس پر ایسا لطف واحسان کرے کہ اپنی انواع و اقسام کی نصرت اور مدداور حمایت سے اُس میں اور اُس کے غیر میں فرق کر کے دکھلائے اور اپنی معرفت کے دروازے اُس پر کھول دے اور اگر کوئی کتاب