چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 300

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۰۰ چشمه معرفت حال دیکھ کر رونا آیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے عمر تو کیوں روتا ہے۔ حضرت عمر نے عرض کی کہ آپ کی تکالیف کو دیکھ کر مجھے رونا آگیا۔ قیصر اور کسرئی جو کافر ہیں آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور آپ ان تکالیف میں بسر کرتے ہیں۔ تب آنجناب نے فرمایا کہ مجھے اس دنیا سے کیا کام! میری مثال اُس سوار کی ہے کہ جو شدت گرمی کے وقت ایک اونٹنی پر جارہا ہے اور جب دو پہر کی شدت نے اُس کو سخت تکلیف دی تو وہ اسی سواری کی حالت میں دم لینے کے لئے ایک درخت کے سایہ کے نیچے ٹھہر گیا اور پھر چند منٹ کے بعد اُسی گرمی میں اپنی راہ لی۔ اور آپ کی بیویاں بھی بجز حضرت عائشہ کے سب سن رسیدہ تھیں بعض کی عمر ساتھ برس تک پہنچ چکی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تعد وازواج سے یہی اہم اور مقدم مقصود تھا کہ عورتوں میں مقاصد دین شائع کئے جائیں اور اپنی صحبت میں رکھ کر علم دین اُن کو سکھایا جائے تا وہ دوسری عورتوں کو اپنے نمونہ اور تعلیم ۲۸۷ سے ہدایت دے سکیں۔ یہ آپ ہی کی سنت مسلمانوں میں اب تک جاری ہے کہ کسی عزیز کی موت کے وقت کہا جاتا ہے اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یعنی ہم خدا کے ہیں اور خدا کا مال ہیں اور اُسی کی طرف ہمارا رجوع ہے۔ سب سے پہلے یہ صدق و وفا کے کلمے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے تھے پھر دوسروں کے لئے اس نمونہ پر چلنے کا حکم ہو گیا۔ اگر آنجناب بیویاں نہ کرتے اور لڑ کے پیدا نہ ہوتے تو ہمیں کیونکر معلوم ہوتا کہ آپ خدا کی راہ میں اس قدر فدا شدہ ہیں کہ اولاد کو خدا کے مقابل پر کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے۔ اب تم مقابلہ کرو کہ ایک طرف تو وہ آر یہ ہیں کہ جو اولاد حاصل کرنے کے لالچ سے اپنی بیویوں سے نیوگ کراتے ہیں جو سراسر حرام کا ری ہے اور ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو ہر ایک فرزند عزیز کے مرنے پر یہ کہتے ہیں کہ مجھے کسی سے تعلق نہیں مجھے خدا تعالیٰ سے تعلق ہے۔ پس یہ پوشیدہ تعلق بجز ان امتحانوں کے کیوں کر ثابت ہو سکتا تھا ؟ اسی بنا پر اللہ تعالی فرماتا ہے قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ