چشمہٴ معرفت — Page 299
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۹۹ چشمه معرفت کامل تعلق تبھی ثابت ہوتا ہے کہ بظاہر بہت سے تعلقات میں وہ گرفتار ہو۔ بیویاں ہوں اولا د ہو تجارت ہوز راعت ہو اور کئی قسم کے اُس پر بوجھ پڑے ہوئے ہوں اور پھر وہ ایسا ہو کہ گویا خدا کے سوا کسی کے ساتھ بھی اُس کا تعلق نہیں یہی کامل انسانوں کے علامات ہیں۔ اگر ایک شخص ایک بن میں بیٹھا ہے نہ اُس کی کوئی جو رو ہے نہ اولاد ہے نہ دوست ہیں اور نہ کوئی بو جھ کسی قسم کے تعلق کا اُس کے دامن گیر ہے تو ہم کیونکر سمجھ سکتے ہیں کہ اس نے تمام اہل و عیال اور ملکیت اور مال پر خدا کو مقدم کر لیا ہے اور بے امتحان ہم اُس کے کیونکر قائل ہو سکتے ہیں اگر ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیویاں نہ کرتے تو ہمیں کیونکر سمجھ آسکتا کہ خدا کی راہ میں جاں فشانی کے موقع پر آپ ایسے بے تعلق تھے کہ گویا آپ کی کوئی بھی بیوی نہیں تھی مگر آپ نے بہت سی بیویاں اپنے نکاح میں لا کر صد ہا امتحانوں کے موقعہ پر یہ ثابت کر دیا کہ آپ کو جسمانی لذات سے کچھ بھی غرض نہیں اور آپ کی ایسی مجردانہ زندگی ہے کہ کوئی چیز آپ کو خدا سے روک نہیں سکتی۔ تاریخ دان لوگ (۲۸۶ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہوگئے تھےاور آپ نے ہر ایک لڑکے کی وفات کے وقت یہی کہا کہ مجھے اس سے کچھ تعلق نہیں میں خدا کا ہوں اور خدا کی طرف جاؤں گا۔ ہر ایک دفعہ اولاد کے مرنے میں جولخت جگر ہوتے ہیں یہی منہ سے نکالتا تھا کہ اے خدا ہر ایک چیز پر میں تجھے مقدم رکھتا ہوں مجھے اس اولا د سے کچھ تعلق نہیں کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بالکل دنیا کی خواہشوں اور شہوات سے بے تعلق تھے اور خدا کی راہ میں ہر ایک وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک جنگ کے موقعہ پر آپ کی اُنگلی پر تلوار لگی اور خون جاری ہو گیا۔ تب آپ نے اپنی انگلی کو مخاطب کر کے کہا کہ اے انگلی تو کیا چیز ہے صرف ایک انگلی ہے جو خدا کی راہ میں زخمی ہوگئی۔ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے گھر میں گئے اور دیکھا کہ گھر میں کچھ اسباب نہیں اور آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور چٹائی کے نشان پیٹھ پر لگے ہیں تب عمر کو یہ