چشمہٴ معرفت — Page 301
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۰۱ چشمه معرفت الْعُلَمِينَ کے یعنی اے نبی لوگوں کو کہہ دے کہ میں صرف خدا کا پرستار ہوں دوسری کسی چیز سے میراتعلق نہیں اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا صرف اس خدا کے لئے ہے جو تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ دیکھو اس آیت میں کیسی ماسوی اللہ سے بے تعلقی ظاہر کی گئی ہے ۔ چناں زندگی کن که با صد عیال نداری بدل غیر آن ذوالجلال افسوس ! ہمارے مخالفوں کو انہی باتوں نے ہلاک کیا ہے کہ وہ خوبیوں پر نظر نہیں ڈالتے اور ہر ایک امر جو ان کو اپنی نادانی سے سمجھ نہیں آتا اس کو اعتراض کی صورت میں پیش کرتے ہیں وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ انسان کن اعمال سے خدا کا پیارا بن جاتا ہے۔ کیا خدا تک پہنچنے کے لئے یہی راہ ہے کہ کوئی شخص بیوی نہ کرے اگر یہی بات ہے تو یہ نسخہ بہت سہل ہے اور اس سے لازم آتا ہے کہ جن کو بیوی میسر نہیں آتی یا ان امور پر قادر نہیں ہو سکتے وہ سب خدا کے ولی اور دوست سمجھے جائیں نہیں بلکہ وہ راہ بہت دُور ہے اور وہ مقام انہیں کو میسر آتا ہے (۳۸) جو خدا کی راہ میں کھوئے جاتے ہیں اور صدق اور وفا کے مرحلہ کو اس منزل تک طے کر لیتے ہیں جو بیچ بیچ اور در حقیقت خدا کے لئے اپنے وجود سے مرہی جاتے ہیں ۔ اُن کو خدا سے کوئی چیز نہیں روکتی نہ وہ بیویاں جو اُن کی پیاری اور عزیز ہوتی ہیں اور نہ وہ اولاد جو اُن کے جگر گوشہ کہلاتے ہیں۔ عجیب قسم کے یہ پاک دل لوگ ہیں جو باوجود ہزار ہا تعلقات کے پھر بھی کسی سے تعلق نہیں رکھتے ۔ وہ ایسے ماسوی اللہ سے بے تعلق ہوتے ہیں کہ اگر اُن کی ہزار ہا بیوی ہو اور ہزارلڑ کا ہو پھر بھی ہم قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ اُن کی ایک بھی بیوی نہیں اور نہ اُن کا کوئی لڑکا ہے اُن کو یہ اندھی دنیا نہیں جانتی کہ وہ کس مقام پر ہیں اور کون اُن کو جانتا ہے مگر وہی جس نے اُن کو یہ پاک فطرت عطا کی ہے یا وہ جس کو اُس کی طرف سے آنکھیں دی جائیں۔ دنیا میں کروڑہا ایسے پاک فطرت گذرے ہیں اور آگے بھی ہوں گے لیکن ہم نے سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تر اس مرد خدا کو پایا ہے جس کا نام ہے محمد صلى الله عليه وآله وسلم۔ الانعام: ۱۶۳