چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 281

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۸۱ چشمه معرفت نا پیدا کنار ہے ایسا ہی اُس کے کام بھی نا پیدا کنار ہیں اور اُس کے ہر ایک کام کی اصلیت تک پہنچنا انسانی طاقت سے برتر اور بلند تر ہے ہاں ہم اُس کی صفات قدیمہ پر نظر کر کے یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ خدا تعالی کی صفات کبھی معطل نہیں رہتیں اس لئے خدا تعالیٰ کی مخلوق میں قدامت نوعی پائی جاتی ہے یعنی مخلوق کی انواع میں سے کوئی نہ کوئی نوع قدیم سے موجود چلی آئی ہے مگر شخصی قدامت باطل ہے اور باوجود اس کے خدا کی صفت افناء اور املاک بھی ہمیشہ اپنا کام کرتی چلی آتی ہے وہ بھی کبھی معطل نہیں ہوئی اور اگر چہ نادان فلاسفروں نے بہت ہی زور لگایا کہ زمین و آسمان کے اجرام و اجسام کی پیدائش کو اپنے سائنس یعنی طبیعی قواعد کے اندر داخل کرلیں اور ہر ایک پیدائش کے اسباب قائم کریں مگر بیچ یہی ہے کہ وہ اس میں نا کام اور نا مراد ر ہے ہیں اور جو کچھ ذخیرہ اپنی طبیعی تحقیقات کا انہوں نے جمع کیا ہے وہ بالکل نا تمام اور نامکمل ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی اپنے خیالات پر قائم نہیں رہ سکے اور ہمیشہ اُن کے خود تراشیدہ خیالات میں تغیر تبدل ہوتا رہا ہے اور معلوم نہیں کہ آگے کس قدر ہوگا اور چونکہ اُن کی تحقیقاتوں کی یہ حالت ہے کہ تمام مدار اُن کا صرف اپنی عقل اور قیاس پر ہے اور خدا سے کوئی مدد اُن کو نہیں ملتی اس لئے وہ تاریکی سے باہر نہیں آسکتے اور در حقیقت کوئی شخص خدا کو شناخت نہیں کر سکتا جب تک اس حد تک اُس کی معرفت نہ پہنچ ۲۶۹) جائے کہ وہ اس بات کو سمجھ لے کہ خدا کے بیشمار کام ایسے ہیں کہ جو انسانی طاقت اور عقل اور فہم سے بالاتر اور بلند تر ہیں اور اس مرتبہ معرفت سے پہلے یا تو انسان محض دہر یہ ہوتا ہے اور خدا کے وجود پر ایمان ہی نہیں رکھتا اور یا اگر خدا کو مانتا ہے تو صرف اس خدا کو مانتا ہے کہ جو اُس کے خود تراشیدہ دلائل کا ایک نتیجہ ہے نہ اُس خدا کو جو اپنی تجلی سے اپنے تئیں آپ ظاہر کرتا ہے اور جس کی قدرتوں کے اسرار اس قدر ہیں کہ انسانی عقل اُن کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ جب سے خدا نے مجھے یہ علم دیا ہے کہ خدا کی قدرتیں عجیب در عجیب اور عمیق در عمیق اور وراء الوراء اور لائید رک ہیں تب سے میں ان لوگوں کو جوفلسفی کہلاتے ہیں پکے کا فر سمجھتا ہوں اور چھپے ہوئے دہر یہ خیال کرتا ہوں میرا خود ذاتی