چشمہٴ معرفت — Page 282
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۸۲ چشمه معرفت مشاہدہ ہے کہ کئی عجائب قدرتیں خدا تعالیٰ کی ایسے طور پر میرے دیکھنے میں آئی ہیں کہ بجز اس کے کہ اُن کو نیستی سے ہستی کہیں اور کوئی نام ان کا ہم رکھ نہیں سکتے جیسا کہ ان نشانوں کی بعض مثالیں بعض موقعہ پر میں نے لکھ دی ہیں۔ جس نے یہ کر همه قدرت نہیں دیکھا اُس نے کیا دیکھا ؟ ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جس کی قدرتیں صرف ہماری عقل اور قیاس تک محدود ہیں اور آگے کچھ نہیں بلکہ ہم اُس خدا کو مانتے ہیں جس کی قدرتیں اُس کی ذات کی طرح غیر محد و داور نا پیدا کنار اور غیر متناہی ہیں۔ ایسا ہی اُس کی قدرت کا یہ راز ہے کہ وہ نیست سے ہست کرتا ہے جیسا کہ اس بات پر ہزار ہا نمونے ہماری نظر کے سامنے ہیں۔ بعض درخت ایسے ہیں کہ اُن کے پھل جیسے جیسے پکتے جاتے ہیں وہ پر دار کیٹروں کی طرح بنتے جاتے ہیں اور بعض درخت ایسے ہیں کہ اُن کے پتوں میں سے بڑے بڑے پرندے پیدا ہو جاتے ہیں اُن میں سے ایک آگ کا درخت بھی ہے اور اُس کی نظیریں ہزار ہا ہیں نہ صرف ایک دو۔ پس اس جگہ بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ وہ نیستی سے ہستی ہے اور یہ ایک ایسار از قدرت ہے کہ ہم اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے اور کیا یہ بھی ضروری ہے کہ ایک نا چیز انسان خدا کے تمام اسرار پر اطلاع بھی پا جائے اور اس کی تمام قدرتوں پر محیط ہو ۲۷۰ جائے ۔ یہ ایک فیصلہ شدہ بات ہے کہ اگر علم سائنس یعنی طبعی خدا تعالیٰ کے تمام عمیق کاموں پر احاطہ کرلے تو پھر وہ خدا ہی نہیں۔ جس قدر انسان اُس کی باریک حکمتوں پر اطلاع پاتا ہے وہ انسانی علم اس قدر بھی نہیں کہ جیسے ایک سوئی کو سمندر میں ڈبویا جائے اور اُس میں کچھ سمندر کے پانی کی تری باقی رہ جائے اور یہ کہنا کہ اُس کی تمام باریک قدرتوں پر اطلاع پانے کے لئے ہمارے لئے راہ کشادہ ہے اس سے زیادہ کوئی حماقت نہیں باوجود یکہ ہزار ہا قرن اس دنیا پر گذر چکے ہیں پھر بھی انسان نے صرف اس قدر خدا کی حکمتوں پر اطلاع پائی ہے جیسا کہ ایک عالمگیر بارش میں سے صرف اس قدر تری جو ایک بال کی نوک کو بمشکل تر کر سکے۔ پس اس جگہ اپنی حکمت اور دانائی کا دم مارنا جھوٹی شیخی اور حماقت ہے۔ انسان باوجود یکہ ہزار ہا برسوں سے اپنے علوم طبعیہ اور ریاضیہ کے