چشمہٴ معرفت — Page 280
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۸۰ چشمه معرفت خدا تعالیٰ کی ہستی کو مانتا ہے اور ہر ایک چیز کا وجود اُس کے ارادہ سے جانتا ہے اُس کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ بغیر حکم خدا تعالیٰ کے کوئی چیز ظہور پذیر نہیں ہو سکتی اور اگر خدا کے وجود کو نہیں مانتا تو دلائل قویہ بدیہیہ اُس کو ملزم کرتے ہیں اور اگر کہو کہ اعتراض یہ ہے کہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک دم میں خدا تعالیٰ نے سب کچھ پیدا کیا تو یہ جھوٹ ہے کیونکہ قرآن شریف سے تو ۲۶۸ یہ ثابت ہوتا ہے کہ چھ دن میں پیدا کیا اور چھ دن سے مراد وہ دن نہیں ہیں جو انسانوں کے دن ہیں بلکہ بموجب تصریح قرآن شریف کے ہر ایک دن سے ہزار ہا برس مراد ہیں اور اگر کہو کہ قرآن شریف سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ نے اجسام ارضی اور اجرام سماوی کو فلاں فلاں مادہ سے پیدا کیا تو یہ خدا کی قدرتوں میں بیجا دخل ہے۔ یاد رکھو کہ انسان کی ہرگز یہ طاقت نہیں ہے کہ ان تمام دقیق در دقیق خدا کے کاموں کو دریافت کر سکے بلکہ خدا کے کام عقل اور فہم اور قیاس سے برتر ہیں۔ اور انسان کو صرف اپنے اس قدر علم پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ اُس کو کسی حد تک سلسله علل و معلولات کا معلوم ہو گیا ہے کیونکہ انسان کا وہ علم نہایت ہی محدود ہے جیسا کہ سمندر کے ایک قطرہ میں سے کروڑم حصہ قطرہ کا اور حق بات یہ ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ خود مید حاشیہ یہ خیال ہی سراسر حماقت ہے کہ جس قدر قانون قدرت ظاہر ہو چکا ہے اسی پر خدا کے مختفی ارادوں اور مخفی قدرتوں کا قیاس کرنا چاہیے کیونکہ قیاس کرنے کے لئے کم سے کم نسبت مساوات تو ضرور چاہیے لیکن جس حالت میں انسان کا علم خدا کی قدرتوں کی نسبت اس قدر بھی نہیں جیسا کہ ایک سوئی کی نوک کی تری ایک بحر اعظم کے پانی سے نسبت رکھتی ہے تو پھر اس قدر قلیل علم انسان کا ان مخفی قدرتوں کے لئے معیار کیونکر ہو سکتا ہے جو غیر متناہی ہیں۔ اگر خدا کی اسی قدر قدرتیں ہیں جو انسان کے احاطہ علم میں ہو چکی ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں تو اس صورت میں خدا محدود ہو جائے گا اور نیز اس کی قدرتیں بھی انسان کے علم سے زیادہ نہیں ہوں گی ۔ لیکن انسان کا خدا کی قدرتوں پر محیط ہونا ایسا ہے جیسا کہ خدا پر محیط ہو جانا۔ وہ خدا جس نے انسان کو مولی گاجر کی طرح زمین سے پیدا کیا۔ پھر اس پہلے قانون کو توڑ دیا ۔ پس اگر وہ کسی زمانہ میں اس موجودہ قانون قدرت کو بھی توڑ دے تو اس کو کون روک سکتا ہے اور کس دلیل سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے تو وہ تبدیل قانون قدرت پر قادر تھا مگر اب قادر نہیں ہے ۔ منہ