چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 251

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۵۱ چشمه معرفت کافروں کی لڑائی میں قید ہو کر تمہارے قبضہ میں آئی ہوں۔ یہ خدا کا حکم تحریری ہے جو تم پر لازم کیا جاتا ہے۔ ان عورتوں کے سوا جو ذکر ہو چکیں باقی سب عورتیں تم پر حلال ہیں مگر اس شرط سے کہ وہ تعلق صرف شہوت رانی کا ناجائز تعلق نہ ہو بلکہ نیک اور پاک مقاصد کی بنا پر نکاح ہو۔ یہ ہیں وہ عورتیں جو خدا کے قانون نے مسلمانوں پر حرام کر دی ہیں اور یہ محض خدا کا حق ہے کہ جن چیزوں کو چاہے حلال کرے اور جن چیزوں کو چاہے حرام کرے اور وہی اپنے مصالح کو (۲۳۲) خوب جانتا ہے۔ اب آریوں کا خدائی قانون میں خواہ نخواہ بغیر کسی حجت اور روشن دلیل کے دخل دینا صرف شوخی اور کمینگی ہے۔ اور ہمیں تو تعجب آتا ہے کہ جولوگ حیوانات کا پیشاب اور گو بر بھی کھا جاتے ہیں اور حرام حلال کا یہ حال ہے کہ اپنی بیوی کو بنام نہاد نیوگ دوسروں سے ہمبستر کراتے ہیں وہ اسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قریبی رشتہ داروں سے کیوں نکاح کیا جاتا ہے؟ اس کا یہی جواب ہے کہ وہ خدا کے نزدیک ایسے قریبی نہیں ہیں جو تمہارے خیال خام میں قریبی معلوم ہوتے ہیں۔ جن کو خدا نے قریبی ٹھیرایا ہے اُن کا ذکر اپنی کتاب میں کر دیا ہے اور وہ نکاح حرام کئے گئے ہیں جیسا کہ ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں مگر اس کا کیا جواب ہے کہ وید کے پرمیشر نے ایک بڑا اندھیر مارا ہے (جس کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آریہ لوگ بسا اوقات ماؤں اور بہنوں سے بھی شادی کر لیتے ہیں ) اور وہ تاریخ یعنی اواگون کا دھوکا دینے والا طریق ہے کیونکہ جس حالت میں دوبارہ آنے والی روح کے ساتھ پر میشر کی طرف سے کوئی ایسی فہرست پیٹ میں سے ساتھ نہیں نکلتی جس سے معلوم ہو کہ فلاں عورت سے پیدا ہونے والی در حقیقت فلاں شخص کی ماں ہے یا دادی ہے یا نانی ہے یا بیٹی ہے یا بہن ہے تو اس میں کیا شک ہے کہ بسا اوقات ایک آریہ شادی کرنے والا اپنی ماں سے نکاح کر لیتا ہوگا ؟ یا بیٹی سے یا بہن سے یا دادی سے ۔ اگر کہو کہ یہ تو پر میشر کا قصور ہے ہمارا قصور نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ پھر تم ایسے پر میشر پر کیوں ایمان لاتے