چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 252

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۵۲ چشمه معرفت ہو؟ جو تمہیں دیدہ دانستہ ایسی ایسی ناپاکی میں ڈالتا ہے اور اگر وہ ان رشتوں کو تمہارے لئے حلال سمجھتا ہے تو پھر تم کیوں اپنے پر میشر کی نافرمانی کرتے ہو اور کیوں شاکت مت کی طرح جو ہندوؤں کی ایک شاخ ہے ماؤں بہنوں کو اپنے پر حلال نہیں کر لیتے ۔ یہ کمال ناسمجھی اور کمزوری ہے کہ جن چیزوں کو پر میشر تمہارے لئے حلال ٹھیراتا ہے تم ان چیزوں کو حرام ٹھیراتے ہو۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ اعتراض پیش کیا کہ قرآن شریف میں لونڈیوں سے ہم بستر ہونا لکھا ہے مگر اس معترض کو اول یہ سوچنا چاہیے تھا کہ کیا یہ امر نیوگ کے برابر ہے؟ ۲۴۳ نیوگ کی تو یہ حقیقت ہے کہ ایک بے گناہ شریف زادی جو کسی کے نکاح میں ہو وہ محض اس وجہ سے دوسرے سے ہم بستر کرائی جاتی ہے کہ تا اس غریب کے پیٹ سے کسی طرح لڑکا پیدا ہو جائے جب دیکھتے ہیں کہ اُن کی عورت کو لڑ کا پیدا نہیں ہوتا یا صرف لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں یا محض بانجھ ہوتی ہے تو ان تمام صورتوں میں اُس آریہ عورت کا کسی دوسرے سے منہ کالا کرایا جاتا ہے پس وہ عورت لڑکے کی خواہش سے کسی بیگا نہ ملخص سے حرام کاری کراتی ہے اور اس کے خاوند کو ایک ذرہ غیرت نہیں آتی کہ اُس کے گھر میں ایک بے گا نہ شخص اُس کی عورت سے حرامکاری کر رہا ہے بلکہ وہ خوش ہوتا ہے کہ اب شاید اس فعل شنیع سے حمل ٹھہر جائے گا اور لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑ کا مفت میں اُس کا لڑکا بن جائے گا۔ افسوس جن لوگوں کو اپنی عورت کی نسبت غیرت نہیں وہ دوسروں کے ساتھ کس طریق پر پر ہیز گاری برت سکتے ہیں۔ رہا یہ امر کہ کافروں کی عورتوں اور لڑکیوں کو جولڑائیوں میں ہاتھ آویں لونڈیاں بنا کر اُن سے ہم بستر ہونا تو یہ ایک ایسا امر ہے جو شخص اصل حقیقت پر اطلاع پاوے وہ اس کو ہر گز محل اعتراض نہیں ٹھیرائے گا۔ اور اصل حقیقت یہ ہے کہ اُس ابتدائی زمانہ میں اکثر چنڈال اور خبیث طبع لوگ ناحق اسلام کے دشمن ہو کر طرح طرح کے دکھ مسلمانوں کو دیتے تھے اگر کسی مسلمان کو قتل کریں تو اکثر اس میت کے ہاتھ پیر اور ناک کاٹ دیتے تھے اور بے رحمی سے بچوں کو بھی قتل کرتے تھے اور اگر کسی