چشمہٴ معرفت — Page 250
روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت التي في حُجُوْرِكُمْ مِنْ نِسَآبِكُمُ الَّتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَ حَلَابِلُ أَبْنَا بِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ (۳) وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا ۔ والْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَبَ اللهِ عَلَيْكُمْ وَ أُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسْفِحِيْنَ الجز و نمبر ۴ سورۃ النساء ( ترجمہ ) اور جن عورتوں کے ساتھ تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو تم اُن کے ساتھ نکاح مت کرو اور جو ہو چکا اس پر کچھ مواخذہ نہیں ( یعنی جاہلیت کے زمانہ کی خطا معاف کی گئی) اور پھر فرماتا ہے کہ باپ کی منکوحہ عورت کو کرنا یہ بڑی بے حیائی اور غضب کی بات تھی اور بہت ہی بُرا دستور تھا تم پر یہ سب رشتے حرام کئے گئے ہیں جیسے تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور دائیاں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور دودھ شریک بہنیں اور تمہاری عورتوں کی وہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں پرورش پائیں اور تمہارے گھروں میں رہیں مگر عورتوں سے وہ عورتیں مراد ہیں جو تم سے ہم بستر ہو چکی ہوں اور اگر تم نے اُن عورتوں سے صحبت داری نہ کی ہو تو اس صورت میں تمہیں نکاح کرنے میں مضائقہ نہیں اور ایسا ہی تمہارے بیٹوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں مگر وہ بیٹے جو تمہارے صلبی بیٹے ہیں متبنی نہیں ہیں اور یہ حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح کرو اور دونوں تمہارے نکاح میں ہوں مگر جو پہلے اس سے گذر گیا۔ اُس پر کچھ مواخذہ نہیں بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو دوسروں کے قید نکاح میں ہیں مگر وہ عورتیں جو شرعی طور پر ظالم حمید حاشیہ افسوس کہ وید کی تعلیم ایسی عورتوں کو بھی حلال کرتی ہے جو دوسروں کے نکاح میں ہوں اگر تمام آریہ ورت کی عورتیں لا ولد رہ جائیں یالڑ کیاں ہوں تو وید کی رو سے جائز ہے کہ ایک ہی رات میں کروڑوں عورتیں اپنے خاوندوں کو چھوڑ کر دوسروں سے ہم بستر ہو جائیں افسوس جن کا یہ مذہب ہے وہ اسلام پر حملہ کرتے ہیں۔ اسلام نے کب جائز رکھا ہے کہ نکاح والی عورت دوسرے سے ہم بستر ہو جائے ؟ اگر یہ صریح حرام کاری نہیں تو اور کیا ہے؟ منه ا النساء : ۲۳تا۲۵