چشمہٴ معرفت — Page 249
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۴۹ چشمه معرفت پر جا اور اس دریا کو کہہ دے کہ میں تیرے آگے اُس فقیر مجر دکا واسطہ ڈالتا ہوں جو تیرے کنارہ پر بیٹھا ہے جس نے ساری عمر میں کسی عورت کو چھوا بھی نہیں ۔ پس اگر یہ بات سچ ہے تو مجھے راہ دے دے۔ جب اس شخص نے یہ پیغام اس دریا کو پہنچایا تو یہ سنتے ہی دریا نے راہ دے دی اور ۲۳۰) وہ دریا سے پار ہو گیا۔ اور آتے وقت پھر وہی مشکل تھی اور دوسرے کنارہ پر اور فقیر بیٹھا ہوا تھا جو ہر روز ایک دیگ پلاؤ کی کھاتا تھا یہ شخص اُس کے پاس گیا اور اپنی مشکل بیان کی اُس نے کہا که دریا کو میری طرف سے جا کر کہہ دے کہ میں تیرے آگے اس فقیر کا واسطہ ڈالتا ہوں جو تیرے کنارہ پر بیٹھا ہے جس نے کبھی ایک دانہ اناج کا بھی نہیں کھا یا اگر یہ بات سچ ہے تو مجھے راہ دے دے تب فی الفور دریا نے راہ دے دی ۔ تو مردان آن راه چون بنگری که از کینه و بغض کور و کری چه دانی که ایشان جهان می زیند ز دنیا نهان در نهان می زیند فدا گشته در راه آن جان پناه زکف دل زسر اوفتاده کلاه دلے ریش رفتہ بکوئے دگر تحسین ولعن جہاں بے خبر چو بیت المقدس درون پر زتاب رہا کردہ دیوار بیرون خراب اور مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض پیش کیا کہ قرآن شریف کی تعلیم کی رو سے قریبی رشتہ داروں میں شادی ہوتی ہے مگر میں نہیں جانتا کہ ایسا لغو اعتراض کیوں کیا گیا ہے۔ یوں تو نوع انسان سب آپس میں قریبی ہیں اسی وجہ سے ایک دوسرے پر حق رکھتے ہیں باقی یہ بحث کہ نہایت قریبی کون کون ہیں جن کا باہم نکاح حرام ہے سو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تفصیل سے بتلا دیا ہے اور وہ آیات یہ ہیں وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلًا - حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُمْ وَبَنْتُكُمْ وَآخَوتُكُمْ وَعَمْتُكُمْ وَخَلتُكُمْ وَبَنْتُ الْآخِ وَبَنْتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهُتُكُمُ الَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَ أُمَّهُتُ نِتَابِكُمْ وَرَبَّا بِبُكُمُ