چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 119

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۱۹ چشمه معد کے استوا کا ذکر ہے جو عرش پر ہوا جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جس نے چھ دن میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور پھر عرش پر قرار پکڑا یعنی اول اس نے اس دُنیا کے تمام اجرام سماوی اور ارضی کو پیدا کیا اور چھ دن میں سب کو بنایا ( چھ دن سے مراد ایک بڑا زمانہ ہے ) اور پھر عرش پر قرار پکڑا یعنی تنزہ کے مقام کو اختیار کیا ۔ (1) یادر ہے کہ استوا کے لفظ کا جب علی صلہ آتا ہے تو اُس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایک چیز کا اس مکان پر قرار پکڑنا جو اس کے مناسب حال ہو جیسا کہ قرآن شریف میں یہ بھی آیت ہے وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِي یعنی نوح کی کشتی نے طوفان کے بعد ایسی جگہ پر قرار پکڑا جو اُس کے مناسب حال تھا یعنی اُس جگہ زمین پر اُترنے کے لئے بہت آسانی تھی سو اسی لحاظ سے خدا تعالی کے لئے استوا کا لفظ اختیار کیا یعنی خدا نے ایسی دراء الوراء جگہ پر قرار پکڑا جو اس کی تنزہ اور تقدس کے مناسب حال تھی چونکہ تنزہ اور تقدس کا مقام ماسوی اللہ کے فنا کو چاہتا ہے سو یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جیسے خدا بعض اوقات اپنی خالقیت کے اسم کے تقاضا سے مخلوقات کو پیدا کرتا ہے پھر دوسری مرتبہ اپنی تنزّہ اور وحدت ذاتی کے تقاضا سے اُن سب کا نقش ہستی مٹا دیتا ہے۔ غرض عرش پر قرار پکڑ نا مقام تنزہ کی طرف اشارہ ہے تا ایسا نہ ہو کہ خدا اور مخلوق کو باہم مخلوط سمجھا جائے ۔ پس کہاں سے معلوم ہوا کہ خدا عرش پر یعنی اُس وراء الوراء مقام پر مقید کی طرح ہے اور محدود ہے۔ قرآن شریف میں تو جابجا بیان فرمایا گیا ہے کہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ کے یعنی جہاں کہیں تم ہو اُسی جگہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔ اسی طرح قرآن شریف میں فرمایا ہے هُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ کے یعنی خدا سب سے پہلے ہے اور باجود پہلے ہونے کے پھر سب سے آخر ہے اور الاعراف : ۵۵ هود : ۴۵ الحديد : ۵ الحديد : ۴