چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 118

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۱۸ چشمه معرفت تم کچھ بھی اعتراض نہیں کرتے کیونکہ تم جانتے ہو کہ اس اعتراض کے وقت تمہاری خیر نہیں ہے پس یقیناً سمجھو کہ نیک مکر سے نہ خدا پر اعتراض ہوتا ہے نہ کسی گورنمنٹ پر ۔ مناسب ہے کہ تم ذرا وید سے الگ ہو کر جو تمہیں گمراہی میں ڈالتا ہے محض عقل سلیم سے کام لے کر سوچو کہ کیا اس قسم کے مگر خدا کے قانون قدرت میں نہیں پائے جاتے ؟ کیا وہ بدوں کے ہر منصوبے جو نہایت باریک مکر کے طور پر کئے جاتے ہیں انہیں کے ہلاکت کے اسباب نہیں کر دیتا۔ کیا بدذات مکر کرنے والا جب اپنے ہد مکر سے ایک نیک آدمی کو ناحق تباہ کرنا چاہتا ہے تو کیا خدا کی عادت نہیں ہے کہ اس نیک مظلوم کو یا گورنمنٹ کو جو عدالت کی کرسی پر بیٹھی ہے کوئی ایسی بات سمجھا دیتا ہے اور کوئی ایسی مخفی شہادت پیدا کر دیتا ہے جس سے وہ بد مکر کرنے والا پکڑا جاتا ہے اور غریب مظلوم اس الزام سے بری کیا جاتا ہے۔ خدا کے یہ نیک مکر عدالتوں کے ذریعہ سے ہر روز ظاہر ہوتے ہیں اور شریر مکاروں کے تہ در تہ پر دے کھولے جاتے ہیں چنانچہ کسی پر مخفی نہیں ہیں مگر آنکھ کے اندھوں کا کیا علاج ۔ در حقیقت اس نادان معترض نے خدا کے نیک مکر کو قابل اعتراض ٹھیرانے کے لئے خود بد مکر استعمال کیا ہے کہ مکر کی دوقسم کو صرف ایک ہی قسم قرار دے کر لوگوں کو دھوکہ دینا چاہا ہے۔ ہم تقریر مذکورہ بالا میں مکر کی نسبت بقدر کفایت بیان کر چکے ہیں اب دوسرا اعتراض معترض کا یہ ہے کہ قرآن شریف میں خدا کا کرسی پر بیٹھنا بیان کیا گیا ہے ۔ سو واضح ہو کہ قرآن شریف میں اس طرح تو کہیں ذکر نہیں ہے جیسا کہ معترض کا بیان ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ خدا تعالیٰ کی کرسی کے بارہ میں یہ آیت ہے وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَوْدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ کے یعنی خدا کی کرسی کے اندر تمام زمین و آسمان سمائے ہوئے ہیں اور وہ اُن سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ ان کے اٹھانے سے وہ تھکتا نہیں ہے اور وہ نہایت بلند ہے کوئی عقل اس کی کننہ تک پہنچ نہیں سکتی اور نہایت بڑا ہے اس کی عظمت کے آگے سب چیزیں بیچ ہیں ۔ یہ ہے ذکر کرسی کا اور یہ محض ایک استعارہ ہے جس سے یہ جتلا نا منظور ہے کہ زمین و آسمان سب خدا کے تصرف میں ہیں اور ان سب سے اس کا مقام دور تر ہے اور اس کی عظمت نا پیدا کنار ہے۔ منہ البقرة : ۲۵۶