چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 120

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۲۰ چشمه معرفت وہ سب سے زیادہ ظاہر ہے اور پھر باوجود سب سے زیادہ ظاہر ہونے کے سب سے پوشیدہ ہے اور پھر فرمایا اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ یعنی خدا ہر ایک چیز کا نور ہے۔ اُسی کی چمک ہر ایک چیز میں ہے خواہ وہ چیز آسمان میں ہے اور خواہ وہ زمین میں اور پھر فرمایا کہ گانَ الله بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِیطَات یعنی خدا ہر ایک چیز پر احاطہ کرنے والا ہے اور پھر فرمایا وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ یعنی ہم انسان کی رگ جان سے بھی اس سے نزدیک تر ہیں اور پھر فرمایا الله لا إله إلا هُوَ الْحَى القَوم کے یعنی وہی خدا ہے اُس کے سوا کوئی نہیں وہی ہر ایک جان کی جان اور ہر ایک وجود کا سہارا ہے۔ اس آیت کے لفظی معنے یہ ہیں کہ زندہ وہی خدا ہے اور قائم بالذات وہی خدا ہے ۔ پس جب کہ وہی ایک زندہ ہے اور وہی ایک قائم بالذات ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص جو اس کے سوازندہ نظر آتا ہے وہ اُسی کی زندگی سے زندہ ہے اور ہر ایک جو زمین یا آسمان میں قائم ہے وہ اسی کی ذات سے قائم ہے۔ اور پھر فرمایا هُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَهُ وَ فِي الْأَرْضِ اله یعنی وہی خدا زمین میں ہے اور وہی خدا آسمان میں اور پھر فرمایا مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلُثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمُ الخ یعنی جب تین آدمی کوئی پوشیدہ باتیں کرتے ہیں تو چوتھا اُن کا خدا ہوتا ہے اور جب پانچ کرتے ہیں تو چھٹا ان کا خدا ہوتا ہے۔ ایسا ہی بہت سی اور آیات میں بار بار فرمایا گیا ہے کہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے یہاں تک کہ وہ ہر ایک جان کی بھی جان ہے اور ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ اسی ایک پہلو تک معرفت الہی کے مسئلہ کو ختم کرتا کہ خدا مخلوق سے الگ نہیں تو ہندوؤں کی طرح پر مسلمانوں میں بھی مخلوق پرستی شروع ہو جاتی کیونکہ اس صورت میں خدا میں اور مخلوق میں کوئی ما بہ الامتیا ز باقی نہ رہتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ آخر کار وید کے ذریعہ مخلوق پرستی شروع ہوگئی کیونکہ ہر جگہ اگنی اور وایو اور سورج اور چاند کو بطور معبود بیان کیا گیا ہے آخرالوگوں نے ان چیزوں کو النور : ٣٦ ٢ النساء : ۱۲۷ ق : ۱۷ - البقرة : ۲۵۶ ۵ الزخرف : ۸۵ - المجادلة : ۸