چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 117

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۱۷ چشمه معرفت باز نہیں آتے ۔ خدا کے اس قسم کے کام بھی پائے جاتے ہیں کہ جس گڑھے کو ایک بدذات ایک ۱۰۹) شریف آدمی کے لئے کھودتا ہے خدا اسی کے ہاتھ سے اُسی گڑھے میں اُس کو ڈال دیتا ہے۔ اور انسانوں میں بھی یہی طریق جاری ہے کہ وہ مکر کرنے والے کومکر کے ساتھ ہی سیدھا کرتے ہیں مثلاً جب چور اور ڈاکو نہایت باریک مکروں کے ساتھ گورنمنٹ کی رعیت کو نقصان پہنچاتے ہیں تو اُن کے پکڑنے کے لئے پولیس کو بھی کوئی مکر کرنا پڑتا ہے مگر فرق یہ ہے کہ چوروں کا بد مکر ہے جس میں خلق خدا کوضرور پہنچانا مقصود ہے اور پولیس کے ملازموں کا نیک مکر ہے جس سے غرض یہ ہے کہ ان بدذات چوروں کے ضرر سے گورنمنٹ کی رعیت کو بچایا جائے۔ ایسا ہی ابھی تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ بعض نمک حرام آریوں نے اس گورنمنٹ عالیہ کے مقابل پر ایک بہت بار یک مکر کیا تھا۔ اگر وہ چل جاتا تو یہ گورنمنٹ بڑی تشویش میں پڑتی اور شاید اس کا نتیجہ ۱۸۵۷ء سے بھی بدتر ہوتا۔ مگر خدا نے اس گورنمنٹ پر فضل کیا کہ وہ اس بد مکر کی تہ تک پہنچ گئی تب اُس کے لائق آفیسروں نے ان شریر آریوں کے بد مکر کے مقابل پر ان کی گرفتاری کے لئے ایک نیک مگر اختیار کیا یعنی بہت احتیاط اور خاموشی سے ان کے سرغنوں کو گرفتار کر لیا اور ایسی حکمت عملی سے گرفتار کیا کہ آریوں کی طرف سے کوئی شور برپا نہ ہو سکا۔ تب بعض کو اسی ملک کے جیل میں داخل کیا اور بعض کو گرفتار کر کے مانڈ لے کے قلعہ کی ہوا چکھائی اس طور سے گورنمنٹ اپنے نیک مکر میں کامیاب ہوگئی مگر شریر آریہ اپنے بد مگر میں ناکام رہے اور اپنے لئے ہمیشہ کی تباہی سہیڑ لی۔ اب بتلاؤ کہ کیا تم گورنمنٹ کے اِس مکر کو مورد اعتراض سمجھتے ہو یا اس کو گورنمنٹ کے پسندیدہ کاموں میں داخل کرتے ہو اور اگر تم پسندیدہ نہیں سمجھتے تو ہنوز تم درست کرنے کے لائق ہو۔ اور اگر پسندیدہ سمجھتے ہو تو تم پر ہزار افسوس! کہ آسمانی بادشاہت پر تو اعتراض کرتے ہو کیونکہ تم خیال کرتے ہو کہ خدا پکڑنے میں دھیما ہے لیکن انسانی گورنمنٹ کے مکر پر