چشمہٴ معرفت — Page 111
روحانی خزائن جلد ۲۳ مقابل پر طبعی قانون قدرت کا شیراز و درہم برہم ہو جاتا ہے۔ مثلا طبعی تحقیق کے لحاظ سے نیند آنے کے اسباب محض مادی ہیں اور جب وہ کم ہو جاتے ہیں تو نیند بھی کم ہو جاتی ہے۔ اور اُن کے بحال کرنے کے لئے مُسَكِّن دماغ اور مرطب چیزیں استعمال کرتے ہیں جیسے برومائڈ اور روغن خشخاش اور روغن تخم کدو اور روغن بادام وغیرہ مگر مکالمہ الہیہ کے وقت میں جو انسان کو ایک قسم کی نیند اور غنودگی آتی ہے جس غنودگی کی حالت میں خدا کا کلام دل پر نازل ہوتا ہے وہ غنودگی اسباب مادیہ کی حکومت اور تا شیر سے بالکل باہر ہے اور اس جگہ طبعی کے تمام اسباب اور علل معطل اور بیکا ر رہ جاتے ہیں مثلاً جب ایک صادق انسان جس کا در حقیقت خدا تعالیٰ سے محبت اور وفا کا تعلق ہے اپنے اُس جوش تعلق میں اپنے رب کریم سے کسی حاجت کے متعلق کوئی سوال کرتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ ابھی اُسی دعا میں مشغول ہوتا ہے کہ ناگاہ ایک غنودگی اس پر طاری ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی آنکھ کھل جاتی ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اُس سوال کا جواب اُس غنودگی کے پردہ میں نہایت فصیح بلیغ الفاظ میں اُس کو مل جاتا ہے وہ الفاظ اپنے اندر ایک شوکت اور لذت رکھتے ہیں اور اُن میں الوہیت کی طاقت اور قوت چمکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور میخ آہنی کی طرح دل کے اندر ھنس جاتے ہیں اور وہ الہامات اکثر غیب پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک سوال کے بعد وہ صادق بندہ اُسی پہلے سوال کے متعلق کچھ اور عرض کرنا چاہتا ہے یا کوئی نیا سوال کرتا ہے تو پھر غنودگی اُس پر طاری ہو جاتی ہے اور ایک سیکنڈ تک یا اُس سے بھی کمتر حالت میں وہ غنودگی کھل جاتی ہے اور اُس میں سے پھر ایک پاک کلام نکلتا ہے جیسے ایک میوہ کے غلاف میں سے اُس کا مغز نکلتا ہے جو نہایت لذیذ اور پُر شوکت ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ خدا جو نہایت کریم اور رحیم اور اخلاق میں سب سے بڑھا ہوا ہے ہر ایک سوال کا جواب دیتا ہے اور جواب دینے میں نفرت اور بیزاری ظاہر نہیں کرتا یہاں تک کہ اگر ساتھ یا ستر یا سو دفعہ سوال