چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 112

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۱۲ چشمه معرفت (۱۰۴) کیا جائے تو اس کا جواب اُسی صورت اور اُسی پیرا یہ میں دیتا ہے یعنی ہر ایک سوال کے وقت ایک خفیف سی غنودگی وارد حال ہو جاتی ہے اور کبھی ایک بھاری غنودگی اور ربودگی طاری حال ہو جاتی ہے کہ گویا انسان ایک غشی کی حالت میں پڑ گیا ہے اور اکثر عظیم الشان امور میں اس قسم کی وحی ہوتی ہے اور یہ وحی کی تمام قسموں میں سے برتر و اعلیٰ ہے۔ پس ایسے حالات میں جو سوال اور دُعا کے وقت لحظہ لحظہ پر غنودگی طاری ہوتی ہے اور اس غنودگی کے پردہ میں وحی الہی نازل ہوتی ہے یہ طرز غنودگی اسباب مادیہ سے برتر ہے اور جو کچھ طبعی والوں نے خواب کے متعلق قانونِ قدرت سمجھ رکھا ہے اُس کو پاش پاش کرتی ہے ایسا ہی صد ہا روحانی امور ہیں جو ظاہری فلسفہ والوں کے خیالات کو نہایت ذلیل ثابت کرتے ہیں بسا اوقات انسان کشفی رنگ میں کئی ہزار کوس کی ڈور چیزوں کو ایسے طور سے دیکھ لیتا ہے کہ گویا وہ اُس کی آنکھ کے سامنے ہیں اور بسا اوقات اُن روحوں سے جو فوت ہو چکے ہیں عین بیداری میں ملاقات کرتا ہے۔ اب بتلاؤ کہ ہم ظاہری عقلمندوں کے کس قانون قدرت میں ان باتوں کو تلاش کریں جن کی عقل محض طبعی اور طبابت کے قوانین کے اندر محدود ہے اور ان روحانی امور کو سمجھ نہیں سکتی اور محض ظلم کے طور پر تکذیب کر کے خیال کر لیتے ہیں کہ ہم نے جواب دے دیا ہے ، غرض جس قانونِ قدرت کو وہ پیش کرتے ہیں وہ خدا کے قانون قدرت سے وہ نسبت رکھتا ہے جیسا کہ سمندر کے ساتھ ایک قطرہ کا ہزارم حصہ نسبت رکھتا ہے۔ بعض جاہل خدا کے رُوحانی قانون قدرت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ الہام کچھ بھی چیز نہیں صرف اصلیت یہ ہے کہ انسان کے دماغ کی بناوٹ ہی اس طرح واقع ہے کہ وہ خواہیں دیکھا کرتا ہے یا الہام ہوتے ہیں اور یہ کوئی امجو بہ نہیں تمام دنیا اس میں شریک ہے۔ اس طور کی باتوں سے اُن کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ خدا کے الہام اور وحی کے سلسلہ کی کسر شان کر کے الہام اور وحی کو ایک معمولی بات اور عام طور پر انسانی فطرت کے لئے ایک طبعی امر ٹھہر اویں لیکن ظاہر ہے