چشمہٴ معرفت — Page 110
روحانی خزائن جلد ۲۳ 11 + چشمه معرفت ۱۰۲ اُن سے اُن کی بیوی کے بارے میں نیوگ کی درخواست کرے تو غالباً اُس کو جان سے ماردیں گے ۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ بھی بیان کیا کہ معلوم شدہ قوانین نامعلوم قوانین سے برخلاف نہیں ہو سکتے اِس سے اُس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے تمام قوانین معلوم ہی ہیں مگر یہ بات تحقیق طلب ہے کہ کیا یہ جہالت اور نا واقعی تمام قوم آریہ میں ہے یا خاص طور پر اس شخص کا یہ قول ہے۔ واضح ہو کہ بڑے بڑے فلاسفر جو دنیا میں گذرے ہیں وہ یہ اقرار کر چکے ہیں کہ انسان کا علم خدا کے نامتناہی علم کے مقابل پر اس قدر بھی نہیں ہے جیسا کہ ایک سوئی کو سمندر میں ڈبو کر اُس کی کچھ تری سوئی میں رہ جاتی ہے۔ بچے عارفوں کا تو یہ قول ہے کہ چونکہ قوانین الہیہ کی حد بست ہو ہی نہیں سکتی اس لئے حد بست سے پہلے کسی امر کی نسبت ایک حد لگا دینا دو تناقض اقرار کو اپنی کلام میں جمع کرنا ہے۔ انسانی علوم جو انسانی عقل کے ماتحت ہیں وہ محض بذریعہ حواس خمسہ ظاہری یا بذریعہ حواس خمسہ باطنی کے معلوم ہوتے ہیں اور یہ آلہ قوانین قدرت کی شناخت کا خود محدود ہے اور ظاہر ہے کہ غیر محدود بذریعہ محدود کے دریافت نہیں ہو سکتا۔ پس جن قوانین کو ہم معلوم شدہ کہتے ہیں ممکن ہے کہ وہ بھی دراصل کامل طور پر معلوم نہ ہوں کیونکہ کارخانہ قدرت وراء الوراء پڑا ہوا ہے۔ انسان صرف کنوئیں کے مینڈک کی طرح ایک سمندر کو اپنے تھوڑے سے پانی کے برابر سمجھ لیتا ہے اور انسان کی تحقیقا تیں ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں مثلاً جو کچھ طبعی اور ہیئت جدیدہ کے ذریعہ صد با اسرار اب معلوم ہوئے ہیں پہلے اُن کا نام و نشان نہ تھا۔ پس ظاہر ہے کہ جن امور کو وہ قانون قدرت سمجھ رہے تھے وہ قانون قدرت اب اس زمانہ میں ہنسی کے لائق ہے اور ممکن ہے کہ بعد اس کے ایک اور زمانہ اس موجود و طبعی اور ہیئت کو بھی نئی تحقیقاتوں کے ذریعہ سے منسوخ کر دے۔ پس انسان کا قانون قدرت ایک ریت کا طومار ہے جو ایک پر زور ہوا سے اپنی جگہ کو چھوڑ دیتا ہے۔ یہ تو ہم نے محض ظاہری ترقی علوم اور تجربہ کا ذکر کیا ہے لیکن ایسے رُوحانی امور بھی ہیں جن کے