چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 109

روحانی خزائن جلد ۲۳ 1+9 چشمه معرفت جل جائیں اور قحط پڑ جائے۔ اب سوچ لو کہ کیا کبھی کسی عقلمند نے اعتراض کیا ہے کہ خدا کے جسمانی (10) قانون قدرت میں اس قدر تبدیلیاں کیوں ہیں تو پھر رُوحانی قانون قدرت پر اعتراض کرنا اگر سراسر جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟ دیکھو کبھی دن ہوتا ہے اور کبھی رات ۔ اور رات بھی دو قسم کی ہے کبھی چاند کی روشنی ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔ اور دن میں کبھی صبح ہوتی ہے کبھی دوپہر کبھی شام اور پھر کبھی موسم گرما آجاتا ہے اور کبھی موسم سرما۔ اسی طرح خدا کے جسمانی نظام میں ہزاروں تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں۔ پس اگر خدا نے روحانی قانون قدرت میں تبدیلیاں رکھ دیں تو کیا غضب آ گیا بلکہ ایسی الہامی کتاب جو خدا تعالی کے جسمانی قانون قدرت کے ساتھ موافقت نہیں رکھتی وہ خدا تعالی کی طرف سے نہیں ہو سکتی ۔ خلاصہ کلام یہ کہ یہ یادرکھنا چاہیے کہ کسی قانون کے تبدیل کرنے کا صرف یہی سبب نہیں ہوتا کہ کوئی غلطی اور فرو گذاشت ہوگئی ہے بلکہ قانون کی کمی بیشی اور تبدیل تغییر کا یہ بھی سبب ہوا کرتا ہے کہ انسان کے خود حالات بدلتے رہتے ہیں کیونکہ انسان کیا جسمانی وضع کی رو سے اور کیا روحانی وضع کی رو سے تغیر تبدل کے چکر میں پڑا ہوا ہے اور چونکہ کمال تام جو کسی حالت منتظرہ کا محتاج نہیں صرف خدا تعالیٰ سے مخصوص ہے اور انسان رفتہ رفتہ اپنے کمال کو پہنچتا ہے اس لئے اُس کو تبدیلیوں سے چارہ نہیں ہے اور جیسا کہ ایک انسان اپنی ابتدائے پیدائش سے اخیر تک اپنی فطرت کی رو سے معرض تبدل و تغیر میں پڑا ہوا ہے اور پیدائش سے اخیر عمر تک صد با تغیر اس پر وارد ہوتے ہیں اسی طرح نوع انسان اپنے ابتدائی زمانہ سے اخیر تک تغیر اور تبدل کا نشانہ ہے مثلاً کسی وحشیانہ زمانہ میں ہندو مذہب کونسل بڑھانے کے لئے نیوگ کی حاجت تھی اور ایک ہندو بڑی خوشی سے اپنی عورت کو دوسرے اجنبی مرد سے جس کے ساتھ نکاح نہیں ہے ہم بستر کرا دیتا تھا اور اب اس زمانہ میں ہزار ہا غیرت مند ہندو ایسے ہیں کہ اگر دیا نند جیسا کوئی برہمن نیوگ کا شائق