چشمہٴ معرفت — Page 104
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۰۴ چشمه معرفت (۹۲) کوئی قوت پیدا کر سکے یا کوئی ذرہ اجسام بنا سکے یا کوئی علم غیب اپنی شناخت کے لئے اپنی کتاب میں بیان کر سکے یا دلوں کو تسلی دینے کے لئے اپنا کوئی معجزہ دکھلا سکے تو پھر یہ کہنا کہ اُس کا کوئی قانونِ قدرت ہے سراسر لغو اور بے معنی بات ہے۔ قانون کا مرتب کرنا قدرت کے بعد ہے اور جب قدرت ہی نہیں تو یہ کہنا چاہیے کہ قانون بحجز اور بے قدرتی ۔ نہ کہ قانون قدرت ۔ وہ پر میشر جو مکتی دائی نہیں دے سکتا اور کسی کا گنہ نہیں بخش سکتا اور اپنی ہستی ثابت کرنے کے لئے کوئی قدرت کا نمونہ دکھلا نہیں سکتا اس کی نسبت قانون قدرت کو کیونکر منسوب کر سکتے ہیں۔ پھر مضمون خواں نے بیان کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا اپنے قانون کو بدل سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کیا وہ اپنے صفات کو بھی بدل سکتا ہے۔ اب غور کرنا چاہیے کہ یہ کیسا بیہودہ جواب ہے یہ تو بیچ ہے کہ جیسا کہ خدا غیر متبدل ہے اس کی صفات بھی غیر متبدل ہیں اس سے کس کو انکار ہے مگر آج تک اُس کے کاموں کی حد بست کس نے کی ہے ۔ اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اس کی عمیق در عمیق اور بے حد قدرتوں کی انتہا تک پہنچ گیا ہے بلکہ اُس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام نا پیدا کنار ہیں اور وہ اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے مگر وہ بدلنا بھی اُس کے قانون میں ہی داخل ہے جب ایک شخص اُس کے آستانہ پر ایک نئی روح لے کر حاضر ہوتا ہے اور اپنے اندر ایک خاص تبدیلی محض اس کی رضا مندی کے لئے پیدا کرتا ہے تب خدا بھی اس کے لئے ایک تبدیلی پیدا کر لیتا ہے کہ گویا اس بندے پر جو خدا ظاہر ہوا ہے وہ اور ہی خدا ہے۔ نہ وہ خدا جس کو عام لوگ جانتے ہیں۔ وہ ایسے آدمی کے مقابل پر جس کا ایمان کمزور ہے کمزور کی طرح ظاہر ہوتا ہے لیکن جو اس کی جناب میں ایک نہایت قوی ایمان کے ساتھ آتا ہے وہ اُس کو دکھلا دیتا ہے کہ تیری مدد کے لئے میں بھی قومی ہوں۔ اس طرح انسانی تبدیلیوں کے مقابل پر اس کی صفات میں بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو شخص ایمانی حالت میں ایسا مفقود الطاقت ہے کہ گویا میت ہے خدا بھی اس کی تائید اور نصرت سے دستکش ہوکر ایسا خاموش ہو جاتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ وہ مرگیا ہے مگر یہ تمام تبدیلیاں وہ اپنے قانون کے اندر اپنے تقدس کے موافق