چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 103

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۰۳ چشمه معرفت کے قواعد کلیہ کے ساتھ تطبیق دی ہے اور یہ تطبیق ایک ایسی لطیف ہے جو صد ہا معارف اور حقائق (۹۵) کے کھلنے کا دروازہ ہے اور سچی اور کامل تفسیر قرآن شریف کی وہی شخص کر سکتا ہے جو طب جسمانی کے قواعد کلیہ پیش نظر رکھ کر قرآن شریف کے بیان کردہ قواعد میں نظر ڈالتا ہے ایک دفعہ مجھے بعض محقق اور حاذق طبیبوں کی بعض کتا بیں کشفی رنگ میں دکھلائی گئیں جو طب جسمانی کے قواعد کلیہ اور اصول علمیہ اور سستہ ضرور یہ وغیرہ کی بحث پر مشتمل اور متضمن تھیں جن میں طبیب حاذق قرشی کی کتاب بھی تھی اور اشارہ کیا گیا کہ یہی تفسیر قرآن ہے اس سے معلوم ہوا کہ عِلمُ الابدان اور علم الادیان میں نہایت گہرے اور عمیق تعلقات ہیں اور ایک دوسرے کے مصدق ہیں اور جب میں نے اُن کتابوں کو پیش نظر رکھ کر جو طب جسمانی کی کتابیں تھیں قرآن شریف پر نظر ڈالی تو وہ عمیق در عمیق طب جسمانی کے قواعد کلیہ کی باتیں نہایت بلیغ پیرایہ میں قرآن شریف میں موجود پائیں اور اگر خدا نے چاہا اور زندگی نے وفا کی تو میرا ارادہ ہے کہ قرآن شریف کی ایک تفسیر لکھ کر اس جسمانی اور روحانی تطابق کو دکھلاؤں ۔ غرض آسمان کے نیچے کوئی دوسری کتاب نہیں پائی جاتی کہ جو طب جسمانی اور طلب روحانی میں اس قدر تطابق دکھلا کر قانون قدرت کے معیار کو اپنی پیروی کرنے والوں کے ہاتھ میں دے دے اس لئے میں پورے یقین سے سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کے مقابل پر تمام دوسرے مذاہب ہلاک شدہ ہیں وہ منہ سے تو کہہ دیتے ہیں کہ الہامی کتاب کے لئے ضروری شرط یہ ہے کہ وہ قانون قدرت کے مطابق ہو مگر مطابق کر کے دکھلاتے نہیں اور اُن کو یہ بھی سمجھ نہیں کہ قانون قدرت کے آلہ کو استعمال کرنے کے لئے طریق کیا ہے۔ وہ خدا کے قانون قدرت کو مروڑ تو ڑ کر اپنے مسلمہ عقائد کے مطابق کرنا چاہتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ در حقیقت وہ مطابق بھی ہیں یا نہیں ۔ اور پھر مجھے یہ تعجب ہے کہ آریہ صاحبان قانون قدرت کا ذکر ہی کیوں کرتے ہیں۔ کیونکہ جس حالت میں اُن کے پرمیشر میں یہ قدرت ہی نہیں کہ ایک روح بنا سکے یا کسی روح میں