چشمہٴ معرفت — Page 105
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۰۵ چشمه معرفت کرتا ہے اور چونکہ کوئی شخص اُس کے قانون کی حد بست نہیں کر سکتا اس لئے جلدی سے بغیر کسی ۹۷ قطعی دلیل کے جو روشن اور بدیہی ہو یہ اعتراض کرنا کہ فلاں امر قانون قدرت کے مخالف ہے محض حماقت ہے کیونکہ جس چیز کی ابھی حد بست نہیں ہوئی اور نہ اس پر کوئی قطعی دلیل قائم ہے اس کی نسبت کون رائے زنی کر سکتا ہے؟ ہاں قطعی اور یقینی طور پر جو ہا تھیں ثابت ہو چکی ہیں اُن سے انکار کرنا ایک قابل شرم جہالت ہے جیسا کہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ خدا واحد لاشریک ہے اور وہ ان تمام باتوں پر قادر ہے جو اس کے تقدس اور کمال کے برخلاف نہیں ہیں اور قانون قدرت کا تو یہ حال ہے کہ پہلے زمانہ میں خدا نے انسان کو محض مٹی سے پیدا کیا یہ بھی ایک قانون قدرت تھا اور پھر اب نطفہ سے پیدا کرتا ہے تو یہ امر بھی قانون قدرت ہے اور پھر اگر ایک زمانہ کے بعد کسی اور طور سے انسان کو پیدا کرے تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ طور اس کے قانون قدرت سے باہر ہے جو غیر محدود ہے۔ یہ خیالات سب جہالتیں ہیں سچ تو یہ ہے کہ نہ کسی نے اب تک اُس کی حد بست کی اور نہ اُس کے قانون کی ۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے اپنے مضمون میں یہ بھی بیان کیا کہ خدا کا قانون یعنی الہامی کتاب بدل نہیں سکتی۔ ہاں انسانی قوانین ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں کیونکہ انسان کا علم محدود ہے مثلاً گورنمنٹ جو آج ایک قانون بناتی ہے تو کل اُسے بدلنا پڑتا ہے۔ یہ تبدیلی اس لئے کرنی پڑتی ہے کہ گورنمنٹ کامل علم نہیں رکھتی بلکہ بہت محدود علم رکھتی ہے۔ چونکہ علم تجر بہ سے بڑھتا ہے اس لئے گورنمنٹ کے قانون میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے مگر خدا کا علم کامل ہے اس لئے اُس کو اپنی کتاب کی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ اس تقریر میں گویا مضمون پڑھنے والے نے ان تمام کتابوں پر حملہ کیا ہے جو بجزر وید کے خدا کی الہامی کتابیں قوموں میں پائی جاتی ہیں اور اس حملہ کے وقت پہلے اُس نے اپنے دل میں بغیر کسی دلیل کے فرض کر لیا ہے کہ سب الہامی کتابیں وید کے بعد ہیں اور پھر یہ فرض کر لیا ہے کہ وید کامل کتاب ہے اور اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں